← اُن کی یاد اُن کا خیال
مدینے میں ہیں بے کسوں کی پناہیں
ہیں آباد اس کی سدا شاہراہیں
بھریں گے وہ دامنِ مری آرزو کا
بھی رات دن ہیں انہیں پر نگاہیں
یہاں چاہیے بجز اور انکساری
ہیں بے حدود بچے عبث ہیں گناہیں ⚠️
ہے جب تک رواں دم، رہے ذکرِ اُن کا
ہے جب تک لہو دل میں، الفت نباہیں ⚠️
وہ بے صوت سُنتے ہیں دل کی حکایت
ہے تُرکِ ادب، شور، نالے، کراہیں
گُل تر ہے آئینۂ حُسنِ اُن کا
وہ مہر ہیں نور کی بارگاہیں
نہیں مشکل اُن کو کوئی بات ساجدؔ
اُٹھے شاد کر دیں ہے شاہ چاہیں ⚠️