← اُن کی یاد اُن کا خیال
دل میں اُن کی یاد، لب پر نام ہے
آج کل اپنا یہی اِک کام ہے
ہے خیالِ اُن کا، کرم اللہ کا
اور تصوّر، حق کا اِک انعام ہے
وردِ جس کا ہے دمِ مرگ اُن کا نام
وہ بخشتے بختِ نیک انجام ہے
ہے ستارہ، ذرّہ اُن کی خاک کا
طُورِ موسیٰ اُن کا روشن بام ہے
مرحبا، وہ گیسو و رُخ، مرحبا
ذکرِ اُن کا لب پہ صبح و شام ہے
رات دن سرشار ہیں سرمست ہیں
اُن کے جن ہاتھوں میں نوری جام ہے
شکرِ حق، اس در کا ساجدؔ ہے فقیر
شاہ کا یہ بندۂ بے دام ہے