← اُن کی یاد اُن کا خیال
دل سے جو غلامِ شاہ ابرار نہیں ہے
کم بخت ہے وہ محرمِ اسرار نہیں ہے
آئیں گے مدد کو تری سلطانِ مدینہ
فریاد ترے دل کی یہ بے کار نہیں ہے
کس کام کا ہے فکر وہ کس کام کا ادراک
عرفانِ حقیقت سے جو سرشار نہیں ہے
بے کار ہے وہ دل جو نہیں اُن کا فدائی
وہ آنکھ بھلی جو طالبِ دیدار نہیں ہے
ہے جب سے مرا وردِ زباں نامِ محمدؐ
کوئی بھی المِ درد پہ آزار نہیں ہے
اللہ کے محبوب کا ثانی نہیں کوئی
اِک بار "نہیں" میری تو سوبار "نہیں"
مفلس کو غنی، سنگ کو یاقوت بنا دیں
ساجدؔ یہ ذرا بھی انہیں دشوار نہیں ہے