← اُن کی یاد اُن کا خیال
دن رات یادِ اُن کی، انہی کا خیال ہے
بے شک مرے لئے تو مبارک یہ سال ہے
پاسِ ادب حضور کا رحمت کی ہے دلیل
تُرکِ ادب عذاب و زیاں ہے، وبال ہے
مخلوق ہے وہ ذات کے بے مثلِ نور سے
صورت ہے وہ بشر کی مگر بے مثال ہے
عالم تمام آئینہ ہے اُن کے حُسن کا
خوشبو و رنگ اُن کا یہ بے مثل ⚠️ جمال ہے
تاج و گہر کی بھینک یہ اُدنیٰ سی بات ہے
مانگ اُن سے اُن کو یہ بڑا جامع سوال ہے
اُن کی نوازشوں سے ہے جاں شادماں مری
اُن کے کرم سے دل کا مرے خوب حال ہے
ساجدؔ میں کچھ نہیں ہوں کریم ہے کریم کا
مجھ میں کوئی ہنر ہے نہ کوئی کمال ہے