← اُن کی یاد اُن کا خیال
دل مرا شام و سحر اُن کی لگن میں مست ہے
آنکھ شوقِ دید سے سیرِ چمن میں مست ہے
میں فدا اُس کے غمِ اُن کا ہے دل سے عزیز
اُن کی خاطر جو سدا رنج و محن میں مست ہے
مصطفیٰ کی یاد میں مدہوش اہلِ شوق ہیں
جس طرح بلبل کی جاں سرو و سمن میں مست ہے
ہے نشیلی لطف وہ ہر بزمِ سرور و کیف میں
جو حبیبِ حق کی یاد انجمن میں مست ہے
ہے بخشتے بخت جو دانائے سرِ ذات ہے
ہے وہ خوش قسمت جو شانِ ذوالمنن میں مست ہے
واقعہ ہے، وہ ہے سرشارِ حقیقت ہر گھڑی
جو کتابِ خلق کے منّت و محن میں مست ہے ⚠️
نعت کے فیضان سے سرور ہے دل رات دن
ساجدؔ مدحت سرا مدحت کے فن میں مست ہے