← اُن کی یاد اُن کا خیال
یادِ اُن کی اثر ہے سینے میں
ہے مزہ خوب ایسے جینے میں
اسم ہے کب جدا مسمّیٰ سے
ہے بہا ہے یہ در خزینے میں ⚠️
اسم کا نور روح میں ساری
ہے چمک جس طرح نگینے میں
اسمِ اعظم ہے کائنات میں یوں
جیسے فانوسِ حُسن ⚠️ کے سینے میں
سیل و گرداب کا اُسے کیا ڈر
آن بیٹھا جو اس سفینے میں
عنبر و مُشک کا ہے سرچشمہ
بے مثال آپ کے پسینے میں
چند برسوں سے ہے قیام پنجرے ⚠️
جاں ساجدؔ مری مدینے میں