اُن کی یاد اُن کا خیال

نورِ جمال نے مرا دل جھنجھوڑ دیا ⚠️

اک بے نوا کے گھر کو شبستاں بنا دیا

اُن کے کرم نے منزلِ تمنّا ہرا کیا

اُجڑا ہوا دیار تھا میرا، بسا دیا

پردہ میاں خالق و مخلوق اُٹھا دیا

حق کے نبیؐ نے بندوں کو حق سے ملا دیا

آئی بفیضِ شاہ، رگِ جاں میں سرخوشی

سیاہ نصیب انہوں نے چمکا دیا

صورت سے اُن کی جلوۂ مطلق ہوا عیاں

معنیٰ کا اُن کی صوت نے بکھر پٹا ⚠️ دیا

پہنچے وہ عرش سے بہت آگے اک آن میں

رتبۂ بشر کا پرچمِ فلک میں بڑھا دیا

ساجدؔ دکھا کے شاہ نے اپنا رُخِ حسیں

قلبِ جہاں پہ حُسن کا پیمانہ ⚠️ بٹھا دیا