اُن کی یاد اُن کا خیال

تصوّر کی مشعل جلا کر تو دیکھو

خیالِ اُن کا دل میں بسا کر تو دیکھو

سو حقیقت، حقیقت، حقیقت

ضمِ وہم کے تم گرا کر تو دیکھو

نظر میں یمین و یسار ایک جلوہ

تعیّن کی قیدیں مٹا کر تو دیکھو

نبیؐ کا ہے پیکر، خدا کی تجلّی

حقیقت کا شیشہ لگا کر تو دیکھو

وہ رحمت مجسّم، محبت سراپا

تعلّق تم اُن سے بڑھا کر تو دیکھو

وہ دل کی مرادوں کے بھرتے ہیں دامن

درِ شاہ پر تم بھی جا کر تو دیکھو

بہت تم پہ ساجدؔ عنایات ہوں گی

تم اُن کا تصوّر جما کر تو دیکھو