← اُن کی یاد اُن کا خیال
احد کا جب مجھے کہسار نظر آتا ہے
سنگِ الفت میں گرفتار نظر آتا ہے
شادماں بیٹھا ہے ہر کوئی نبیؐ کے در پر
ہر کوئی شوق سے سرشار نظر آتا ہے
خود بخود بگڑے ہوئے کام سنور جاتے ہیں
اب نصیب اپنا بھی بیدار نظر آتا ہے
اس گلی میں سے دیکھیں، ہے وہی اُن پہ فدا
ہر کوئی اُن کا خریدار نظر آتا ہے
اُن کے ہیں نور کے سائے یہ جہاں کے جلوے
چاند بھی پرتوِ رُخسار نظر آتا ہے
روشنی ہے مری آنکھوں کی فروزاں تر کیسی
روضۂ شاہ کا مینار نظر آتا ہے
ملتفت جب ہو نظرِ اُن کے کرم کی ساجدؔ
کب کوئی راستے دشوار نظر آتا ہے