اُن کی یاد اُن کا خیال

ہو گا مرے گھر میں قدم اور زیادہ

برسے گا ابھی اور کرم اور زیادہ

وراں ہے ابھی کشتیِ تمنّا مرے دل کی

آنکھوں میں ابھی چاہیے نم اور زیادہ

پڑھتا ہوں درود اُن پہ تصوّر لئے اُن کا

یوں آتا ہے دم میں مرے دم اور زیادہ

رنج پھیرتے ہیں مجھ سے جہاں والے یہ جنتا ⚠️

کھنچتا ہے یہ دل سُوئے حرم اور زیادہ

تنہائی میں یادِ اُن کی مزا دیتی ہے کچھ اور

خوش ہوتے ہیں اس حال میں ہم اور زیادہ

خالق کے خزانے کے ہیں قائم شہِ والا

ملتا ہے جو مانگے کوئی کم اور زیادہ

ساجدؔ نہیں گرچہ عنایات کا در بند

وا اُس پہ ثناؤِ اُمم اور زیادہ ⚠️