اُن کی یاد اُن کا خیال

یہ آنکھ فقط رؤیتِ سلطاں کے لئے ہے

یہ دامنِ دل دولتِ ایماں کے لئے ہے

ذکرِ اُن کا ہے لاریب علاجِ دلِ بیمار

نامِ اُن کا دوا، رنج و غمِ جاں کے لئے ہے

کثرت سے درود اُن پہ ہے سرمایۂ خوشی کا

سب روشنی یہ صبحِ بہاراں کے لئے ہے

اُن کے رُخِ تاباں سے مہ و مہر ہیں روشن

مُشکِ اُن کے عرق کی گل و ریحاں کے لئے ہے

اُن تلکوں کی سُرخی سے شفقِ زار کی رنگت

آستاں کی تابش دُرِّ مرجاں کے لئے ہے

رحمت کا خزینہ ہے فرشتوں کے لئے وہ

گنجینۂ فیضان اگر انساں کے لئے ہے

ساجدؔ ہے نصابِ اُن کا جداگانہ سراسر

یہ لوحِ فقط اُن کے دبستاں کے لئے ہے