← اُن کی یاد اُن کا خیال
نامِ پاکِ اُن کا لیا، چارۂ آزار کیا
ردِّ آلام کا یہ تجربہ سو بار کیا
جاں سرمست بفیضانِ تصوّر ہے مری
اُن کی رودادِ نے دل سرخوش و سرشار کیا
اُن کا دیدار، حقیقت میں ہے دیدارِ خدا
مست ہے، آپ کا جس آنکھ نے دیدار کیا
دل کی وہ بات سمجھتے ہیں بتوفیقِ خدا
ہم نے کب حالِ دلِ زار کا اظہار کیا
شکرِ حق، دل کو میسّر ہے سکونوں کی دولت
رحمتِ حق نے مرے بخت کو بیدار کیا
آپ نے کھول کے پیچیدہ گرہِ عرفان کا
راستے منزلِ توحید کا ہموار کیا
دے کے ساجدؔ مجھے اللہ نے توفیقِ درود
میرے اندوہ زدہ دل کو طرب زار کیا