اُن کی یاد اُن کا خیال

اُن کے لطف و کرم کی بات کریں

ذکرِ بارانِ التفات کریں

وہ اگر چاہیں رات، دن ہو جائے

زہر کو سر بسر نبات کریں

ہر طرف ہیں تجلّیاتِ اُن کی

غور سے سیرِ کائنات کریں

رہے اُن کا خیال سارا دن

یادِ اُن کو تمام رات کریں

اُن کے چہرے کے دلنشیں جلوے

چاند کی روشنی کو مات کریں

اُن کے ملنے سے ہے خدا ملتا

اُن سے قائم تعلّقات کریں

آج ساجدؔ کا دل پریشاں ہے

اُن کے لطف و کرم کی بات کریں