← اُن کی یاد اُن کا خیال
مدینے کا ہے جان پرور اُجالا
یہاں رات دن ہے برابر اُجالا
حسین و لطیف اُن کا پیکر اُجالا
اُجالے کا سایا سراسر اُجالا
وہ نوری بدن پرتوِ اسمِ اعظم
اُجالا خدا کا پیمبر اُجالا
مدینے کے بازار ہیں کہکشائیں
ہے ہر بام و دیوار و در پر اُجالا
بفیضِ نبیؐ عارفوں کی نظر میں
ہے باہر اُجالا ہے اندر اُجالا
حبیبِ خدا کا نہیں کوئی ثانی
نہیں کوئی بھی اُن کا ہمسر اُجالا
ہر اک دل میں ساجدؔ ہو نورِ نبوّت
ہو ماہِ ہدایت کا گھر گھر اُجالا