اُن کی یاد اُن کا خیال

سرخوشی اس درجہ فوز و کامرانی اس قدر

ذکر سے اُن کے ہے دل میں شادمانی اس قدر

کون کرتا ہے بجز محبوبِ حق یوں شفقتیں

کون کرتا ہے کرم اور مہربانی اس قدر

بھیجے دن ہو کہ رات اکثر درود اُن کے حضور

تاکہ ہو کافور دل کی یہ گرانی اس قدر

حق ہو یا باطل چھپائیں لاکھ ہم چھپتا نہیں

دل کی کرتا ہے یہ چہرہ ترجمانی اس قدر

چشمِ نم، رُخ پر بہار اور لب پہ اُن کا نامِ پاک

ہے جدا اہلِ محبت کی نشانی اس قدر

داغِ دھبّے معیشت کے سب کے سب دھل جائیں گے

موجزن ہے ہر طرف رحمت کا پانی اس قدر

میں نبیؐ کی نعت ساجدؔ خوب جی بھر کر لکھوں

چاہیے دنیا نہ مجھ کو زندگانی اس قدر