← اُن کی یاد اُن کا خیال
دل میں خیالِ سیّدِ لولاک جب رہے
ہر شام پر بہار نظر پر دل رہے ⚠️
بیٹھے ہیں ہم تصوّرِ بطحا کے ذوق سے
بیٹھے رہیں گے ہم یہ نبیؐ انجمن سے اب رہے ⚠️
دل اُن کے دشمنوں کے ملکتے ہیں رات دن
اُن کے حریف سرخوش و سرشار کب رہے
منظرِ نبیؐ کے شہر کے دلکش عجب رہے
صبح جمیل، شامِ حسین، عنبریں ہوا ⚠️
بے بہرہ نور سے رہے، کیا بدنصیب تھے
چشمے کے پاس رہ کے بھی جو تشنہ لب رہے
تھی نورِ حق کے سامنے خم گردنِ غرور ⚠️
تھا زرِ ذات وہ دہے جس کے سبب رہے ⚠️
دل سے امیرِ حمزہ پہ ساجدؔ میں ہوں فدا
دشمن ہزار دل سے مرا بولب رہے ⚠️