← اُن کی یاد اُن کا خیال
مہ و مہر کی روشنی ہے انہی سے
گُل و برگ کی تازگی ہے انہی سے
نگاہیں جمی رہتیں ہیں رُخِ مصطفیٰ پر
دلوں میں کشش ہائی ہے انہی سے ⚠️
پھوار اُن کی رحمت کی ہر سُو تھی نکلی
کرم کی جھڑی آج بھی ہے انہی سے
غریبوں، ضعیفوں، یتیموں کا مونس
عیاں جلوۂ خواجگی ہے انہی سے
مرے جان ایمان قربان اُن پر
مسنوں مری زندگی ہے انہی سے ⚠️
مسلسل نوازش، مدام عنایت
یہ ہر دم ہجومِ خوشی ہے انہی سے
یہ سرشاری و بے خودی ساجدؔ
ہے اسمِ اعظم کا فیضان انہی سے ⚠️