← اُن کی یاد اُن کا خیال
جب بھی غم و آلام کی شدّت نظر آئی
تسکیں کو مری اُن کی عنایت نظر آئی
ادراک نے جب جمع کیا حُسنِ دو عالم
دل کو میرے سرکار کی صورت نظر آئی
پہنچا وہ جہاں حق کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
اس جسم میں اللہ کی قدرت نظر آئی
ہیں خاکِ نشیں تاجِ شہی پاؤں میں اُن کے
یہ اُن کے غلاموں کی علامت نظر آئی
فیضانِ طبیعت ہے یہ محبوبِ خدا کا
یہ اُن پہ درودوں کی بہاروں کا شجر ہے
ہر ایک قدم پر مجھے رحمت نظر آئی
شاداں ہیں شب و روز مرے اُن کے کرم سے
ہر آنکھ میں ساجدؔ مجھے الفت نظر آئی