اُن کی یاد اُن کا خیال

مصطفیٰ کے شہر کی آب و ہوا کچھ اور ہے

طور اُس کے باشیوں کا اور ادا کچھ اور ہے

اُن کا غم کچھ اور ہے اُس کا مزا کچھ اور ہے

اس غمِ حرماں⚠️ کا دارو اور دوا کچھ اور ہے

تاجرِ⚠️ دنیا کے بھی کرتے ہیں گو نیکیاں⚠️

انبیاء کے شاہ کی لیکن عطا کچھ اور ہے

وقف کرتے ہیں بنامِ مصطفیٰ وہ زندگی

اُن کے مشتاقوں کا معیارِ وفا کچھ اور ہے

سائلوں میں بانٹتا ہے نعمتیں اُن کا فقیر

اُن کے کوچے کا سوالی اور گدا کچھ اور ہے

ہر گھڑی تازہ تجلّی دیدۂ حق بیں⚠️ میں ہے

اس نظر میں سیرِ گل کا مدّعا کچھ اور ہے

فرطِ درد و غم میں بھی ساجدؔ رہے پاسِ ادب

امتحانِ الفت و صبر و رضا کچھ اور ہے