اُن کی یاد اُن کا خیال

کونین میں اُن سا کوئی دلدار نہیں ہے

اُن سا کوئی مونس کوئی غمخوار نہیں ہے

اب کھلنے لگے⚠️ میری تمناؤں کے غنچے

اب صرصرِ⚠️ غم دینے آزار نہیں ہے

ہے جو بھی شے⚠️ سائۂ الطافِ نبیؐ

ہرگز وہ زبوں زار نگونسار⚠️ نہیں ہے

اک دن تو پہنچ جائے گا سلطان کے در پر

گر دیکھیے⚠️ یہ نالہ ترا بے کار نہیں ہے

ہے چشمِ ادب کوش⚠️ میں وہ گُل سے بھی بڑھ کر

خارِ مدینے کا ہے وہ خار نہیں ہے

جو اُن سے ہے منسوب وہ خوشحال ہے لاریب

ہے جو بھی غلامِ اُن کا وہ نادار نہیں ہے

کافی ہے مجھے نامِ شہِ⚠️ دین کا ساجدؔ

گنجینۂ⚠️ گوہر مجھے درکار نہیں ہے