اُن کی یاد اُن کا خیال

جو شام و سحر اُن کو نہیں یاد کریں گے

سرمایۂ عمر اپنا وہ برباد کریں گے

رودادِ⚠️ کرمِ تاجورِ حق کی سنا کر

ہم اوروں کو خوش اپنے کو دلشاد کریں گے

پھر لائیں گے ہم گوہرِ مقصود سے دامن

ہم جب بھی درِ شاہ پہ فریاد کریں گے

پیشِ اُن کے میں جب عرض کروں گا دل و جاں کی

ایمان کی ہے بات اسے شاد⚠️ کریں گے

ہم منتظرِ اذنِ⚠️ زیارت کے لیے ہیں

ہم جائیں گے جس لحظ وہ ارشاد کریں گے

دل بیچ⚠️ کے سوغات بنامِ شہِ دوراں

ہم قریۂ⚠️ دیراں کو یوں آباد کریں گے

سلطانِ جہاں ایک نظر سے ہمیں ساجدؔ

زندانِ غمِ دہر سے آزاد کریں گے