اُن کی یاد اُن کا خیال

گرچہ وہ بوریا نشیں ہو گا

عرش سے ماورا مکیں⚠️ ہو گا

عشق سے بڑھ کے کون اُن کی طرح

ذاتِ مطلق کا ہم نشیں ہو گا

اتنا ہی مہربان ہو گا خدا

جتنا دل شاہ کے قریں ہو گا

اُن کے لطفِ نگاہ سے یکسر⚠️

زہر بھی جامِ انگبیں ہو گا

اُن کی جو شان کا نہیں قائل

یار وہ مارِ آستیں ہو گا

جان افروز ہر عمل اُن کا

ہر قول دلنشیں ہو گا

بھولنا حق کا بھی⚠️ ہے بھلانا انہیں

ساجدؔ ایسا کبھی نہیں ہو گا