← اُن کی یاد اُن کا خیال
جب کرم ہوتا ہے تقدیر بدل جاتی ہے
لوحِ محفوظ کی تحریر بدل جاتی ہے
رُخ بدلتی ہے ہوا اُن کا اشارہ پا کر
زہرِ قاتل کی بھی تاثیر بدل جاتی ہے
اُن کی شفقت سے سنور جاتی ہے دنیا دل کی
دفعتاً⚠️ پیشِ⚠️ تصویر بدل جاتی ہے
جب بھی آتا ہے خیال اُن کی شفاعت کا مجھے
حالتِ خاطرِ دلگیر بدل جاتی ہے
خود بخود غیب سے ہو جاتے ہیں پیدا اسباب
خود بخود غیب سے تدبیر بدل جاتی ہے
جب خوشی آتی ہے اب ہوتے ہیں مصروفِ ثنا
عادتِ نالۂ⚠️ شبگیر بدل جاتی ہے
دل مرا ہوتا ہے سرمست ثنا سے ساجدؔ
غم کی حالت میری تعبیر⚠️ بدل جاتی ہے