ذوقِ جمال

قرآن طبِ آیا، عرفانِ بہاں⚠️ آیا

غمرے کی بہاریں ہیں، ماہِ زمہاں⚠️ آیا

جب آنکھ کُھلی دل کی ہر ذرّے میں مَیں دیکھا

نظّارہ صد حیرت ہر شے سے عیاں آیا

رحمت کی گھتا⚠️ بُرسی سب گرد و الم گھیری

جب گنبدِ خضرٰی کا روشن وہ نشاں آیا

انسان و ملائک کے تعظیم کو سرگرم

اس درگہِ اقدس پر ہر پیر و جواں آیا

حیرت ہے کہاں کس کی، ظاہر جو خدا دیکھے

اِک آپؐ کی آنکھوں میں وہ جلوہ شاں آیا

آباد مدینے کی ہیں آٹھ پہر راہیں⚠️

خوشیوں کے ہیں نظّارے، عیدوں کا ساں⚠️ آیا

لو فصلِ ربیع آئی ساتھ اپنے خوشی لائی

ساجدؔ بیں موسمِ پا، جب شاہِ کاں⚠️ آیا