ذوقِ جمال

ہے کہاں عالم میں ایسا قد رعنا نور کا

عرشِ طبقی⚠️ بھی آقاؐ کے ہے زیرِ کف پا، نور کا

رات دن پیش نظر اُن کے تماشا نور کا

جس کی لوحِ⚠️ دل پر ہے حرفِ تمنّا نور کا

پہلے حق نے آئنۂ بخش بنایا نور کا

اِس میں ہم نے دیکھا شاہِ حسن اپنا نور کا

کب وہ ظاہر ہے مظہر احمد ؐ اور احمدؐ سا احد

لفظ اسی نے کس سے جدا دیکھا ہے معنی نور کا

وصل حق ممکن نہیں ہے مظہرِ حق کے بغیر

جذبِ حق پیکر ہے وہ خالقِ کا بھیجا نور کا

جاں نہاں ہے جسمِ میں جاں میں نہاں ذات خدا

جانتے کم ہیں جو دل میں ہے چشمۂ نور کا

سرخوش و سرشار ہے جاں اور دل سرمست ہے

جب سے ساجدؔ نے دیکھا وہ سرایا نور کا