ذوقِ جمال

جس کو سیراب کیا تُو نے ، سدا سبز رہا

خنگ ہوتا ہی نہیں جو بھی ہے دریا تیرا

کبھی پھلتا ہی نہیں جس پر غضب ناک ہے تُو

خندہ زن رہتا ہے ہر پھول کھلایا تیرا

مجھ تیرے شکم کے اسرار کہاں کُھلتے ہیں

تُو اگر چاہے سمجھ آئے تو معنا تیرا

ذرے ذرے پر تیرا ترا ہو آئے عنایت ملے

ہر طرف دامنِ اکرام ہے پھیلایا تیرا

ہیں پلٹتے میں گئے ، باقی و سرکش تیرے

سارے آفاق پر مضبوط ہے قبضہ تیرا

ذاتِ باقی ہے تری ، قادرِ مطلق تُو ہے

بیتِ مقدس ہے ترا ملکہ مدینہ تیرا

تیرے فرمان کی پابند جہاں کی ہر شے

عرش و کرسی ہیں ترے ، سیّدؔ والا تیرا