دعا (تضمین)
چشمہ رحمت کی موج جاں فزا کا ساتھ ہو
ربِّ عالم! تیرے فضل ہے بہا کا ساتھ ہو
تیرے باغِ لطف کی اے بادِ صبا کا ساتھ ہو
''یا الٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو''
جب پڑے مشکل، شہِ مشکل کُشا کا ساتھ ہو
عمر میری وقف ہو اللہ کی تعریف کو
روز و شب گذریں نبیؐ کی نعت اور توصیف کو
اولیا کا ذکر کافی دل کی ہے تالیف کو
''یا الٰہی! بھول جاؤں نخوِ⚠️ نزعِ⚠️ تکلیف کو''
شادی دیدارِ حسنِ مصطفیؐ کا ساتھ ہو
جب کریں اِعراض ہم سے اپنے ربِّ قدیر
خاطرو خواہ میں ہوں، آتا رہم⚠️ والکثیر
ذی نفس بدنِ اضطراب وکرب میں ہردم اسیر
''یا الٰہی! جب پڑے محشر میں شور دو⚠️ گیر''
اَمن دینے والے پیارے پیشوا کا ساتھ ہو
جس گھڑی ہو حال دل منظور قبولہ⚠️ و یاس سے
لب پہ جاں آئے غمِ و اندیشہ و وسواس سے
آگ چاروں سمت برسے، بشدتِ احساس سے
''یا الٰہی! جب زباں میں باہرا آئیں پیاس سے''
صاحبِ کوثرؐ شہہ دو عطا کا ساتھ ہو
زندگی کی راہ میں پیش آئیں جب بھی مشکلات
اور کریں زیر و زبر دنیائے دل کو حادثات
ہو بُلا کو بھاری دل پہ ہر ملکی⚠️ سی بات
''یا الٰہی! گو تیرو⚠️ کی جب آئے تختِ رات''
اُن کے پیارے منہ کی بج کا جانفزا کا ساتھ ہو
عرصہ پُر شور میں یونہی کہ ہو توحید حشر
اور عام و خاص کے پیشِ نظر ہو دید حشر
چے پہ یہ روبوروزوں⚠️ پر ہو بوم تشدیدِ حشر
''یا الٰہی! سردمہری پر ہو جب خورشید حشر''
سیّدِ بے سایہ کے ظلِ لوا کا ساتھ ہو
جب غُنوں⚠️ کی بجلیوں سے راکھ ہوں دل کے چمن
باوصرہ⚠️ سمیں تیں خوشیوں کے گُل اور نسرن⚠️
کام آئے نام و نسب، علم و فضیلت، اور نفن⚠️
''یا الٰہی! گرمیِ محشر سے جب بچ کریں بدن''
داسِ محبوبِ کی خوشبوئی⚠️ ہوا کا ساتھ ہو
توبہ، توبہ، اپنی نافرمانیوں کی شامتیں
کس سے حال دیں، اب کس پہ فریاد کریں
سوچتے ہیں ہم کہاں ہیں جاں کو بچائیں کریں
''یا الٰہی! نامہ اعمال جب گُھلا⚠️ در کریں''
عیب پوشِ خلق، ستار خطا کا ساتھ ہو
میرے عصیاں ہیں رقم میری کتاب میں
ماسوا طغیان کے ، کیا ہو گا باب ہجرم میں
جل رہا ہے دل خداوندت سے عذاب میں
''یا الٰہی! جب بہت آنکھیں ہوں جواب میں''
اُن تمسیمِ ریز⚠️ ہونوں کی دعا کا ساتھ ہو
کوئی بھی پریشاں حالیوں میں حالِ خاطر کا
ایک ساتھ بھی ہمیں تسکین، غم⚠️ ایسا اُڑائے
عمر ضائع تلقن⚠️ میں نہ پیچھتاوا اُڑائے
''یا الٰہی! جب حساب خندہ⚠️ بے جا اُڑائے''
چشمِ گریاں شفیعِ مرتضیٰ کا ساتھ ہو
دیکھتی ہے چشمِ حق سب کچھ، عیاں ہو یا نہاں
حق سے پوشیدہ نہیں بولنا، نغمہ یا خاموشیاں
تیرے لطف و وفا سے، ہر بات ہوحق ترجمان
''یا الٰہی! رنگ لائیں جب مری بے باکیاں''
اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو
یُوں میں تیرا بک⚠️ چلوں تاریک راہیل⚠️ صراط
وہ کہیں میں تب چلوں تاریک راہیل⚠️ صراط
زیرِ لطف رب چلوں تاریک راہیل⚠️ صراط
''یا الٰہی! جب چلوں تاریک راہیل⚠️ صراط''
آفتابِ بانمی⚠️ نُورِ الہدیٰ کا ساتھ ہو
عرصہ شام و سحر میں آئیں، جب لے کڑے
جب کو بی پنگے استبداد اور شر پر اڑے
بے سب کوئی شگر⚠️ نوازوں سے کڑے
''یا الٰہی! جب سرِ مشیر⚠️ پر چلنا پڑے''
رب سلم کہنے والے غمزدہ کا ساتھ ہو
میں حضورؐ حق فضلاً رُودادِ جان و دل کہوں
صبراور ہمت میں ہو توفیق جب تک حیوں
دین و ایماں پر زروگو⚠️ گوہریں، ہم دم جدوں
''یا الٰہی! جوڑ دے یک میں تجھے سے آئیں کروں''
قدسیوں کے لب سے آئیں ہم رہنا کا ساتھ ہو
شُنچے⚠️ میرے خاطر واسطے کے رحمت کُھلائے
سیّد تو اِک محفل میں دل نے یہ اذن پائے
جب سینہ کا آخر مزرم⚠️ طلب کے آخر جائے
''یا الٰہی! جب بہ دعائے رضاخواب⚠️ گراں سے راحت اُٹھائے''
دولت دیدارِ عشقِ مصطفیؐ کا ساتھ ہو