ذوقِ جمال

دستِ شہِ دین لطفِ کا دریا ہے ہمارا

ہم بندے ہیں وہ سیّد ہیں والا ہے ہمارا

پِٹکے ہوئے رہگیروں کا وہ ہو راہنما ہے

غمِ خواروں کا مُونس ہے وہ مونسے ہمارا

وہ اِنس و ملاک کی ہیں محرابِ عقیدت

محبوبِ خدا ، شاہد ، رعنا ہے ہمارا

تکلیف میں دیتا ہے دِلاسا وہ دلوں کو

وہ مہر و وفا فرق سے تا پا ہے ہمارا

کس شانِ کی صنعت کا وجود شہِ عالم

آئینہ حقیقت کا وہ زیبا ہے ہمارا

وہ واسطہ ہے خالق و مخلوق کے مابین

کس درجہ حسین بُزرگِ زبردستِ⚠️ ہمارا

قربان دل و جاں ہیں کف پاء نبیؐ پر

ہم اُس کے بھکاری ہیں وہ داتا ہے ہمارا