محرابِ جاں

اضطراب و غم اے کوئی نہ فکر و بیم ہے

حکمِ نبی کے سامنے جس کا سرِ تسلیم ہے

پرتوِ ذاتِ احدِ احمد کی ہے ذاتِ کریم

درمیاں اِن دو کے برزخ ایک حرفِ میم ہے

کھل گیا جس پر المعنیٰ⚠️ نبی بابِ خبر

پھر کہاں اُس کو خیالِ بدول⚠️ و تقویم ہے

بے ادب اُن کا ہے دنیا اور عقبیٰ میں ذلیل

ہے معزّز دل میں جس کے شاہ کی تعظیم ہے

حق عطا کرتا ہے تخت و تاج ہم و زر و سیم⚠️

سب نبی کے ہاتھ سے دولت کی یہ تقسیم ہے

مصطفیٰ کا رنگ ہے رنگِ خدائے دو جہاں

خامۂ دستِ نبی توحید کی تعلیم ہے

اک الف کی ہے تمنّا ہر گھڑی ساجدؔ مجھے

آرزوئے بار⚠️ مجھے کوئی نہ شوقِ جیم ہے