محرابِ جاں

بروزِ حشر ہر سو خطرۂ⚠️ میرم⚠️ اہم ہو گا

بہ اِذنِ حق شفاعت کا کھلا باب کرم ہو گا

ہے جسے محوِ جمالِ مصطفیٰ ہونا

کھلے گی چشمِ باطن دل بھی اُس کا جامِ جم ہو گا

یقیناً ہر گھڑی برسے گا اُس پر ابرِ رحمت کا

لبوں پر جس کے ذکرِ شاہِ عالم و عظیم ہو گا

رسولِ خالقِ کُل کی نظر ہے مہرباں جس پر

غم و اندوہ سے آزاد وہ حق کی قسم ہو گا

نبیؐ کے اُسوۂ حسنہ کا جو پابند ہے دل سے

جہاں کا سامنے اس کے رقم تقلیم⚠️ کم ہو گا

تصوّر میں رسولِ پاک کے دن رات جو ڈوبا

گوہر بے بہا ہو گا عجب وہ ذرّ⚠️ ہو گا

مجھے اس بات کا ساجدؔ یقیں ہے واثق و راسخ

غلامانِ نبیؐ میں نام میرا بھی رقم ہو گا