محرابِ جاں

نعت ہم محبوبِ عالم کی سناتے جائیں گے

بزمِ میلادِ نبیؐ گھر گھر سجاتے جائیں گے

مرحبا جائیں گے جس جانب غلامانِ نبیؐ

رحمتِ باری کے وہ دریا بہاتے جائیں گے

کیف آ گئیں شہر کی شامیں بسیں⚠️ کی روح میں

اور سویرے جاں فزا دل میں سماتے جائیں گے

اے خوشا جھونکے ہوائے رہگزارِ شاہ کے

بند غنچے آرزوؤں کے کھلاتے جائیں گے

آئیں گے جس راستے سے اُن کی یادیں اور خیال

جان اور دل کے گلی کوچے بساتے جائیں گے

تذکرے اُن کے جمال و حسن کے ہے ساختہ⚠️

نقشِ دل پر اُن کی اُلفت کا جماتے جائیں گے

آج ہم ساجدؔ کریں گے نعت خوانی رات بھر

جام پر جامِ مدحت کا لٹاتے جائیں گے