← محرابِ جاں
یادِ خدا
مقطع ↓ساز و آہنگ ہے یا قافیہ پیمائی ہے
یادِ یزداں میں یہ سب زمزمہ آرائی ہے
یادِ اللہ کی پیوست ہو دل میں دائم
اس نوازش کی مری جاں تمنّائی ہے
یادِ باری کے ہے فیضان سے روشنی ساری
اس کی برکت سے منوّر مری تنہائی ہے
جو نظر آتا ہے وہ نورِ خدا ہے لاریب
سب اسی ذات کی یک رنگی دکھائی ہے
جلوہ گر عرش سے تا فرش وہی ہے ورنہ
کس کے انوار سے یہ حسن یہ زیبائی ہے
پیکرِ شاہ سراسر ہے تخلیقِ خدا
شاہ کے حُسن سے عالم کی یہ رعنائی ہے
بزمِ مدحت میں شرف یاب ہوا ہے ساجدؔ
رحمتِ ربِّ جہاں وجہ پذیرائی ہے