محرابِ جاں

ہر روز بھیجتا جو نبی پر سلام ہے

خورسند و ارجمند ہے وہ شاد کام ہے

فکر و خیال سے ہے وراہ رُتبۂ رسول

بعد از خدا رسول کا عالی مقام ہے

شاہِ رسل کا در ہے مری منزلِ مراد

اس آستاں پہ داستاں میری تمام ہے

ظاہرِ نبی کی ذات سے ہے ذاتِ ذوالجلال

مرکز اُن کا دیدۂ عاشقِ مدام ہے

دل کو مرے نصیبِ خزاں میں بھی ہے بہار

میرے لبوں پہ فیضِ محمّد کا جام ہے

خاصِ سرور و کیف کا ہے اُسوۂ رسول

پیغامِ صد بہار نبی کا پیام ہے

نسبت ہے اُس کی قادری ساجدؔ کہیں سے تے⚠️

آلِ نبی کا دل سے وہ ادنیٰ غلام ہے