محرابِ جاں

جب باد چلے تند غم و جور و ستم کی

آغوش میں لیتی ہے نظر اُن کے کرم کی

کھولی ہے گرہ ناقصِ⚠️ توفیق نے میری

رحمت نے مجھے قدرتِ تکمیل⚠️ بہم کی

ہے روکش فردوس جو بلھی⚠️ کی زمیں آج

مرہون کرم شاہ کے ہے یہ قدم کی

اللہ کا محبوب ہوا بزمِ حکمت⚠️ گہری⚠️

جامع وہ ہوئی ذاتِ حدوث اور قدم کی

ہے جس کے خیالوں میں حسین یادِ نبی کی

زنہار نہیں اُس کو ہوس دام و درم کی

بس چاہیے دیدار مجھے صورتِ حق کا

کب دل کو تمنّا ہے کسی باغِ ارم کی

ساجدؔ یہ گل و رنگ مہ و مہر تیرے خوشبو

سب جلوہ طرازی ہے یہ اُس نورِ اتم کی