اُن کی یاد اُن کا خیال

ایک ایک کر کے ہیں نکلے مرے ارمان بہت

نیکیاں اُن کی بہت اور ہیں احسان بہت

عاقبت اُن کی نظر ہو تو کوئی خوف نہیں

عزّتِ زیست میں گو غم کے ہیں طوفان بہت

اس حسین شہرِ نبیؐ کی نسیم کہاں ہے خوشبو

اس جہاں میں ہیں اگرچہ چمنستان بہت

یاد آتے ہیں مدینے کے شب و روز مجھے

آج کل رکھتے ہیں بے چین دل و جان بہت

ہر گھڑی اُس کی رگ و پے میں ہے فرواں ہے سرور

جس کو ہوتا ہے عطا شاہ کا عرفان بہت

سامنے کثرتِ جلوے کے زباں گنگ ہوئی

دل ہے مبہوت بہت آنکھ ہے حیران بہت

لب پہ ساجدؔ مرے بے ساختہ آتا ہے درود

غم سے جب ہوتا ہے دل میرا پریشان بہت