اُن کی یاد اُن کا خیال

غیر کا جب بھی ستم یاد آیا

شاہ کا لطف و کرم یاد آیا

رؤیتِ باری پہ جب غور کیا

جلوۂ شانِ اتم یاد آیا

مست و سرشار سبھی بیٹھے ہیں

منظرِ حُسنِ حرم یاد آیا

گر کے سجدے میں کیا شکر ادا

اُن کا جب نقشِ قدم یاد آیا

خویش و بیگانہ کا یکساں مونس

سیّد و میرِ اُمم یاد آیا

ہاتھ میں اُن کے کتابِ تقدیر

لوحِ یاد آئی قلم یاد آیا

اُن کی وہ چشمِ عنایت ساجدؔ

چارۂ کُلفت و غم یاد آیا