← کتابیں

جانِ جہاں

99 کلام

۱ہم پر کھلے درِ لطف کا اے ربِّ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ!۲ایک گنجینۂ اسرار ہے آقا ﷺ پر درود۳آقا، مولیٰ، ملجا، ماوی اصل اللہ⚠️ علیہ وسلّم۴جس نے بھی گوہرِ عرفانِ حقیقت پایا۵اُن کی صورت ہے اگر پیشِ نظر۶نو کا وہ برگِ فضلِ خدا سے ہرا ہوا۷جو بھی ﷺ میں فانی ہیں⚠️ نہیں ہوتا۸اُس عزّ و شاں کا کوئی عالی مکاں نہیں۹اطہر و احسن محمّد مصطفیٰ ﷺ۱۰آلامِ روزگار کے طوفاں ٹل گئے۱۱تذکرۂ آپ ﷺ کا کرے کوئی۱۲بس گوشے میں جہاں کے کردو بیاں⚠️ نہیں۱۳مرحبا، شانِ محمّد ﷺ، اللہ۱۴شکرِ صد شکر میں سلطاں کا مہماں ہوں!۱۵راہ جاتی ہے خزینے کی طرف۱۶نامِ نبی ﷺ زباں پہ ہے گلدانِ بات⚠️ کا۱۷ذکرِ خیر الانام ہوتا ہے۱۸صدق سے آپ ﷺ کا جو تاجِ فرماں ہو گا۱۹رحمتوں کا در ہمیشہ باز ہے۲۰حُسنِ رسول ﷺ کی کہاں کوئی مثال ہے۲۱نہ کوئی شہِ دیں کا ہمسر ہو۲۲دیکھے ہے یہ دل شام و سحر نوائے⚠️ محمّد ﷺ۲۳آپ ﷺ ہیں روحِ مُجسّم آقا ﷺ!۲۴سرے تا پا جلوہ افشاں شمعِ یزداں آپ ﷺ ہیں۲۵لاکھ گہرا زخمِ دل ہو عشق کے آزار کا۲۶مرا وظیفہ درود و سلام ہو جائے۲۷مرحبا، شکرِ خدا، نورِ الہٰی پیدا ہوا۲۸نعت ہے لب پہ مرے، شکر ہے، فریاد نہیں۲۹یا نبی ﷺ! ہے نظر کی بلقار⚠️ حکیم، الغیاث۳۰حق کی تعظیم کو کتنے ہی پیغمبر آئے۳۱وہ مشانِ⚠️ خدا خاتم المرسلین ﷺ ہے۳۲آمدِ محبوب کی خوشیوں کا چرچا دیکھ کر۳۳دل پر ہمارے سیّدِ⚠️ شاہ پہ دئیے⚠️ ﷺ چلے۳۴سر پر مرے عنایتوں کا ساماں⚠️ رہے۳۵چمکتی شمعِ نبی ﷺ کی جو شاہراہیں ہیں۳۶جو اہلِ بیت کا دل سے نیاز مند ہوا۳۷سنگ اُن کے لطف سے لعل بدرخشاں ہو گیا۳۸آمد پہ اُن کی روشنی کا باز در ہوا۳۹ذرا بھی خوف نہیں اُس کو روزِ محشر کا۴۰عطا ہوں گے ہمیں انعام کیا کیا فضلِ داور سے۴۱عالی ہے ذاتِ والئی⚠️ بے کس پناہ کی۴۲صورتِ رسولِ پاک ﷺ کی وہ آفتاب ہے۴۳فکر و دانش میں سماتی ہے کہاں شانِ رسول ﷺ۴۴بیکراں خوشیوں کا اظہار تھا معراج کی رات۴۵مہ و خورشید و سرو و گل، برائے سرو و عالم ﷺ۴۶تذکرہ کیسے ہو اُس کے طالعِ بیدار کا۴۷دائم یہاں ہے کثرتِ انوارِ مصطفیٰ ﷺ۴۸انعام ہے خدا کا محبّتِ رسول ﷺ کی۴۹آرزو جس کی تھی وہ مکاں آ گیا۵۰منّی کو کیا وہ خذف⚠️ کو گوہر کریں۵۱مژدۂ لطف و کرم، اے شہِ کونین ﷺ ملے۵۲کون زمنے⚠️ میں شہِ دیں ﷺ کے برابر ہو گا۵۳سر جھکائے انبیا نے آپ کی تعظیم کو۵۴چاہے جو اُنہیں ایسا طلبگار کہاں ہے۵۵جائیں گے ہم حبیبِ خدا کے دیار میں۵۶جب سے ذکرِ مصطفیٰ سے دل کی آبادی ہوئی۵۷دارا کی بات ہو نہ سکندر کی بات ہو۵۸دیدارِ حق تعالیٰ، دیدارِ مصطفیٰ ﷺ ہے۵۹دل سے جو ہے غلامِ بشیر ﷺ و نذیر ﷺ کا۶۰رحمت کی رواں آنکھوں پہر خوئے نبی ﷺ ہے۶۱الٰہی! ہو عطا ہم کو ولائے شاہِ محبوباں ﷺ۶۲گر سایہ ملے آپ ﷺ کی دیوارِ حرم کا۶۳پتھر اگر پکاریں آئے، نادوا⚠️ نہیں۶۴بیٹھا بعد ادب جو شہِ دوسرا ﷺ کے پاس۶۵حرم کے در و بام و مینار دیکھیں۶۶نہ جامِ جم پہ نہ یاقوت و لعل و گوہر پر۶۷جس کو ہے بخشا گیا عرفانِ رسول اللہ ﷺ کا۶۸نوازشات کے اُمّید دار ہم بھی ہیں۶۹عبدہٗ، فخرِ بشر، نورِ مصوّر سمجھیں۷۰نصیبِ فخر ہمیں آپ ﷺ کی گدائی کا۷۱لعل و گوہر نہ زنجہ⚠️ و دستار چاہیے۷۲شکرِ خدا میں حاضرِ دربار ہو گیا۷۳نامِ رسول ﷺ پاک سے طوفان ٹل گیا۷۴بزمِ جاں میں رات دن رقصاں ہیں ارماں آج کل۷۵سامنے آنکھوں کے جب گنبدِ خضریٰ ہو گا۷۶ہونٹوں پہ اِنس و جاں کے صلوٰۃ و سلام ہے۷۷آپ ﷺ کی شان عجب شان مدینے والے!۷۸تصوّر میں جمائے ہم نظر آقا ﷺ کے ابرو پر۷۹اُن کو امکان و قدم مانتے ہیں۸۰اُن سا صاحبِ خالقِ اکبر کوئی نہیں۸۱مہرباں خالقِ کُل ہم پہ ہے بے حد ایسا۸۲خالق کی تخلیق ہے یہ تنویرِ نبی ﷺ کی۸۳لامکاں تک تاجدارِ دیں کی جو پرواز ہے۸۴سرورِ دل پہ جو فدا نہ ہوا۸۵توفیقِ حق سے مصطفیٰ ﷺ بالاختیار ہے۸۶فضلِ ربِّ جہاں، لطفِ قدّوس ہے۸۷جس گھڑی نعت سے رنگین ورق ہوتا ہے۸۸چاند اور سورج فدا اس پیکرِ انوار پر۸۹کوچۂ پاک میں اُن کے مرا بستر ہوتا۹۰مدحِ سرکار ﷺ میں جو زمزمہ خواں ہوتا ہے۹۱کون ہمسرِ آپ ﷺ کے ہے زمرۂ اقبال کا۹۲اک چشمِ کرم میری طرف سروِ عالم ﷺ۹۳قبولِ سروِ عالم ﷺ سلام ہو جائے۹۴جب نگاہوں میں شہِ دیں ﷺ کا دیار آتا ہے۹۵مظہرِ حسنِ خدا ہے روئے حضرتِ مصطفیٰ ﷺ۹۶ذاتِ نبی ﷺ سے ذاتِ کیا حق کی عیاں نہیں۹۷رخ دیکھتے ہی آپ ﷺ کا صاحبِ نظر ہوا۹۸ہم پہ عقدہ کھل گیا معراج کا۹۹ذکر درود پاک ہے گھر گھر رسول ﷺ کا