← موضوعات

معراج

114 کلام

۱بلائیں لیتا ہے عرشِ بریں مدینے کی۲چشمِ جب اُن کی مہرباں ہوگی۳خاصۂ مُرسلاں محمدؐ ہیں۴روحِ عالم ہیں کونین کی جان ہیں۵زِ فرق تابقدم نور ہے رسولِ خدا۶شافعِ روزِ جزا ہیں مصطفیٰ۷صلِّ علیٰ یہ شانِ نزالی حضورؐ کی۸مجھ کو بھی ہو نصیب زیارتِ رسولؐ کی۹محبوبِ کردگار حبیبِ خدا ہوا۱۰میری جاں میری آرزو تم ہو۱۱ہیں عرش و فرش پہ اُن کے جمال کی باتیں۱۲مجھے بھی ہے معراج کی آرزو۱۳خَلق کا مدّعا محمدؐ ہیں۱۴بُلائیں لیتا ہے عرش، بریں مدینے کی۱۵چشمِ اُن کی جب مہربان ہو گی۱۶رُوحِ عالم ہیں کونین کی جاں ہیں۱۷خدا کے آپؐ ہوئے نُور یا رسولؐ اللہ!۱۸سلطانِ کائناتِ خدا کا حبیب ہے۱۹صلِّ علیٰ ہے شانِ نزالیِ حضورؐ کی۲۰مجھ کو بھی ہو نصیب زیارتِ رسولؐ کی۲۱محبوبِ کردگارِ رسولؐ خدا ہُوا۲۲باغِ عالم کا رنگ و بُو ہیں آپؐ۲۳نبیؐ کا مجھے آستاں چاہیے۲۴ہیں عرش و فرش پہ اُن کے جمال کی باتیں۲۵بسا جِس کے دل میں حرمِ آپؐ کا۲۶بارگاہِ جمال کی باتیں۲۷اے حبیبِؐ خدا سلام علیک۲۸میری زبان پر ہوں دن رات نام اُن کا۲۹نورِ جمال نے مرا دل جھنجھوڑ دیا ⚠️۳۰حق کا ظاہر ہے دست و پائے رسولؐ۳۱وہی کلام فصاحت کی جان ہوتا ہے۳۲گرچہ وہ بوریا نشیں ہو گا۳۳بلند عرش بریں سے ہے آستانِ نبیؐ۳۴ساز و آہنگ ہے یا قافیہ پیمائی ہے۳۵چارہ اُن کے در پہ ہے ہر بے سر و ساماں کا۳۶نبیؐ کے وسیلے سے حق مل گیا ہے۳۷عرب آپ کا ہے عجم آپ کا۳۸کیوں نہ عالم ہو اُن کا شیدائی۳۹ہے ہمہ عرش و فرش پہ عالی جناب کا۴۰اُن کو خبر ہے میرے دلِ پُر گداز کی۴۱خدا کی ذات کا وہ جلوۂ مثال ملے۴۲مرحبا، شانِ محمّد ﷺ، اللہ۴۳سرے تا پا جلوہ افشاں شمعِ یزداں آپ ﷺ ہیں۴۴بیکراں خوشیوں کا اظہار تھا معراج کی رات۴۵مہ و خورشید و سرو و گل، برائے سرو و عالم ﷺ۴۶تذکرہ کیسے ہو اُس کے طالعِ بیدار کا۴۷آرزو جس کی تھی وہ مکاں آ گیا۴۸الٰہی! ہو عطا ہم کو ولائے شاہِ محبوباں ﷺ۴۹عبدہٗ، فخرِ بشر، نورِ مصوّر سمجھیں۵۰شکرِ خدا میں حاضرِ دربار ہو گیا۵۱اُن کو امکان و قدم مانتے ہیں۵۲مہرباں خالقِ کُل ہم پہ ہے بے حد ایسا۵۳جس گھڑی نعت سے رنگین ورق ہوتا ہے۵۴مظہرِ حسنِ خدا ہے روئے حضرتِ مصطفیٰ ﷺ۵۵ذاتِ نبی ﷺ سے ذاتِ کیا حق کی عیاں نہیں۵۶ہم پہ عقدہ کھل گیا معراج کا۵۷ذکر درود پاک ہے گھر گھر رسول ﷺ کا۵۸بسکہ عالی مقامِ احمد کا۵۹تختِ الثریٰ سے عرش تک انوارِ مصطفیٰ۶۰بخشِ⚠️ سیاہِ لطفِ نبی سے بدل گیا۶۱بہت آفاق کا بیدار تھا معراج کی شب۶۲شرق سے تا غرب گُل عالم پہ احسانِ عرب۶۳تا سدرہ تھے جبریل بھی شاملِ شبِ معراج۶۴انوار ہی انوار سراسر شبِ معراج۶۵فیضِ سلطاں ہے رواں دن رات دریا کی طرح۶۶ممتاز جہاں بھر میں ہے وہ ٹکڑے⚠️ محمدؐ۶۷اللہ کی ہے شان سراپائے محمدؐ۶۸شاہِ رسل کا کون ہے ہمسر زمیں پر۶۹وہ صورتِ حق نشانِ خدا احمدِ مختار۷۰جنّ ہر دم انس و قدسی اُن کے ہیں دربار پر۷۱بعد صدقِ دل ہے بس ربِّ دوسرا⚠️ کی تلاش۷۲جو بھی خلوصِ دل سے کرے استقبالِ فیض۷۳ذکرِ نبی ہے جا بجا از خاکِ تا فلک۷۴عرش سے رُتبے میں بالا ہے بہت شانِ رسول۷۵اتنی آپؐ کے سب آپؐ کے در پر پہنچیں۷۶بازنِ⚠️ حق شہِ دیں ملا و شان دیتے ہیں۷۷اُن کو اللہ کی ہم شانِ اتم جانتے ہیں۷۸بسرِ⚠️ حضورؐ کا سر روئے زمیں نہیں۷۹خور⚠️ و غلاں پھول لائیں خوشی⚠️ تمثال میں۸۰کہیے تو کبھی شاہدِ⚠️ خالق سے ملانے والے۸۱نخن⚠️ برحق ہے یہ یقین الیقین ہے۸۲کوئی ہرگز نہیں خیرُ البشرؐ سے آگے۸۳اس گدا پر ہو عطا خواجہِ دیں تصویری⚠️ سی۸۴مرحبا اعلیٰ⚠️ و صلّاؐ شاہِ دیں پیدا ہوئے۸۵گزارش ہے جنابِ شاہِ سے لطف و ترحّم کی۸۶دیکھا فلک نے ماہ کب اس آب و تاب کا۸۷عرش سے بڑھ کر ہے رہتے میں شبستاں نور کا۸۸حق نے چنتے بھی کئے یہ حق ختم رسلؐ ہوا پیدا۸۹یہ جہاں کیا ہے فقط نورِ خدا ہے اس میں۹۰حق کی روشن کتاب کی باتیں۹۱جاں ہے نبیؐ کے در سے برابر گلی⚠️ ہوئی۹۲بخت کا چکے گا انجم کے در کی خاک سے۹۳جیسے وابستہ گل و خار کسی گلش⚠️ سے۹۴ملا سب انبیاؐ کو فیض احمدؐ سے۹۵جہاں سارا ہے پیغمبرؐ جہاں کے لیے۹۶نامِ آپؐ کا علاج دل زار ہو گیا۹۷محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۹۸محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۹۹جو اُن کی خاک در کے ذرے روشن جنہیں نکلی۱۰۰نبیوں کا بشر ہونا خدا کا اعجاز۱۰۱جس کو سیراب کیا تُو نے ، سدا سبز رہا۱۰۲علوؐ مرتبہ صلِ علی ، خاتونِ جنت کا۱۰۳محبوبِ خدا ، جانِ مسیحا ہے ہمارا۱۰۴ہے کہاں عالم میں ایسا قد رعنا نور کا۱۰۵بالا ہے فکر و فہم سے بام حسینؑ پاک۱۰۶مظہرِ شانِ قدرت پر لاکھوں سلام۱۰۷سیّدِ کونین کی ہیں جلوہ پیکر ایڑیاں۱۰۸لے کے عصیاں کا بار پھرتے ہیں۱۰۹دل میں ہے شوق اگر، ہبرِ⚠️ نبیؐ کا دیکھو۱۱۰گرہے اپنے جنت میں دیدار باری، واہ واہ۱۱۱یا رسول اللہ! رحمت کیجیے۱۱۲مکاں لا مکاں انمی کے لیے۱۱۳حق کو ہے مقبول جس کی ہر دعا۱۱۴گُل زمیں کو اب تر سی ہیں جمیں