← کتابیں

نور و سرور

127 کلام

۱مجھے بھی ہے معراج کی آرزو۲سُنی جو دل نے صدا لا الہٰ إلا اللہ۳محمدؐ عربی تیرا نُور یا اللہ!۴جلوۂ زارِ ذاتِ ہو، محمدؐ رسولِ اللہ۵اُن کے جمال، جاں فزا کی بات چاہیے۶اک نشہ سا مدام رہتا ہے۷اے شاہ! دلِ زار پہ رحمت کی نظر ہو۸خَلق کا مدّعا محمدؐ ہیں۹مرے بھی نام ہو کوئی پیام بطحا کا۱۰شبِ رنج و غم کی سحر ہو رہی ہے۱۱بنامِ شاہِ رسلؐ ساز اُٹھا محبت کا۱۲بُلائیں لیتا ہے عرش، بریں مدینے کی۱۳لُطفِ نبیؐ سے ذرّہ ذرّہ ضیا بار ہو گیا۱۴دل ہے تاریک، مرا روشنی والے خواجہؒ!۱۵اُن کی دلبری پہ جُھکلا ⚠️ ہے زمانۂ اللہ۱۶جان و دل، سینہ و جگر قرباں۱۷جانِ جاناں، امیرؐ مُرسلؐ ہیں۱۸جب سے رسولِؐ حق کی نظر مہربان ہے۱۹جو محبت کے یہ جی اپنا بہلتا ہی نہیں۲۰جمالِ حسیں و حُسن یاد آیا۲۱شکرِ حق، صبح گل فشاں آئی۲۲جو دل سے شاہِ اُمم کا نیازمند ہُوا۲۳جہاں میں اُن سا کوئی صاحبِ جمال نہیں۲۴چشمِ اُن کی جب مہربان ہو گی۲۵چشمِ رحمت کا اِشارا ہو گا۲۶اُن کے جمالِ رُخ کی رہی باتِ رات بھر۲۷حق، نہاں اور عیاں محمدؐ ہیں۲۸دلِ حزیں کو خوشی کا پیام آیا ہے۲۹دل وقفِ تمنّائے رسولؐ عربی ہے۳۰تسکیں نواز، رُوح فزا ذکرِ مصطفیٰؐ۳۱رستۂ حریمِ حُسن کا ہم کو دکھا دیا۳۲رنگِ جمالِ حُسنِ چمن، نُورِ ماہ ہو۳۳رُوحِ عالم ہیں کونین کی جاں ہیں۳۴رُخِ آپؐ کا کِس درجہ ضیابار ہے خواجہؒ!۳۵خدا کے آپؐ ہوئے نُور یا رسولؐ اللہ!۳۶الم کی رات کٹے، عیدِ کی سحر آئے۳۷سفر نصیب ہو مرے خدا! مدینے کا۳۸دل کو بے حد خوشی ہے صلِّ علیٰ۳۹سلطانِ کائناتِ خدا کا حبیب ہے۴۰سلامِ محبت، سلام نیاز۴۱سلطانِ جہاں، حضرتِ محبوبؐ دو عالم۴۲شاہِ کونین کا آستاں مل گیا۴۳صلِّ علیٰ ہے شانِ نزالیِ حضورؐ کی۴۴درِ شاہؐ پر بندۂ زار آیا۴۵کِس کی زباں شتائے محمدؐ سے تر نہیں۴۶کاش ایسی بھی اِک سحر آئے۴۷کھڑا ہوں در پر سراپا التجا ہوں یا رسولؐ اللہ!۴۸مدحت سرا ہُوا جو میں اپنی ترنگ میں۴۹گُلشن گُلشن زمزمے اُن کے صحرا اُن کی بات۵۰لے محمدؐ کا نام، شام و سحر۵۱مجھ کو بھی ہو نصیب زیارتِ رسولؐ کی۵۲ریاضِ دلکشا آئے تو دیکھوں۵۳مدینے کے جب بام و در دیکھتا ہوں۵۴محبوبِ کردگارِ رسولؐ خدا ہُوا۵۵مدینے کی ہوائیں نغمہ گر ہیں۵۶باغِ عالم کا رنگ و بُو ہیں آپؐ۵۷محمدؐ مصطفیٰؐ شاہِ رسل نُورِ خدا آئے۵۸دل و جاں میں ہے نُورِ فیضانِ نبیؐ کا۵۹پرتوِ ذاتِ بے نشاں ہے رسولؐ۶۰گدائے شہرِ ہُوا شہریار، صلِّ علیٰ۶۱سارے عالم کے لیے آپؐ ہیں رحمت شاہا!۶۲نیازمند ہُوں دربارِ مصطفائی کا۶۳نبیؐ سے محبت بڑی چیز ہے۶۴نبیؐ کی یاد میں دیوانہ وار پھرتا ہوں۶۵نبیؐ کا مجھے آستاں چاہیے۶۶نگاہِ لطف نے گلشن کھلا دیے کیا کیا۶۷نبیؐ کے جسم کی خُوشبو ہے بطحا کی ہواؤں میں۶۸نُورِ جاں، جاں، جہاں، ختمِ رسولاں مددے۶۹نگاہِ کرمِ بادشاہ یگانہ۷۰نویدِ رحمتِ پروردگار آئے گی۷۱حُسنِ عالم ہیں حق کا نشاں آپؐ ہیں۷۲ہیں عرش و فرش پہ اُن کے جمال کی باتیں۷۳غم کی کڑی تھی دھوپ میں تائیدِ لطف سے۷۴شاہِ رسلؐ کی یادِ رگِ جاں ہے آج کل۷۵آب و ہوائے شہرِ نبیؐ چاہیے مجھے۷۶سیدِ عالم کا لطفِ جاودانی چاہیے۷۷شکرِ ایزدی کا اب پیام آہی گیا۷۸سلطانِ برگزیدہ کا ایواں نظر میں ہے۷۹دیتا ہے بزمِ حق کا پتا درِ رسولؐ کا۸۰ہوتی فزوں ہے دل کی خوشی اُن کے نام سے۸۱جب نبوّت کی ظاہر ہوئی روشنی۸۲عام ہے دولتِ عرفاں درِ اقدس پر۸۳بطحا کی فضا اور ہے رنگ اور سماں اور۸۴اُلفت و مہر و دوستی آئی۸۵اُن کے در پر جو لوگ آتے ہیں۸۶محمدؐ عربی شاہِ انبیاءؐ آئے۸۷اُن کی رحمت سے سبھی رنگ نکھر جاتے ہیں۸۸سامانِ سکونِ قلب آپؐ ہی کا ہے۸۹آئے ہیں ہم ہجومِ تمنا لیے ہوئے۹۰کون ایسے سرِ محفل ہوئے آئے۹۱مصطفیٰؐ مرتعِ ادا، اللہ اللہ۹۲سیدِ نامور کی بات کریں۹۳ایوانِ شاہِ جن و بشر تک پہنچ گیا۹۴ثانی نبیؐ کا کوئی نہ کوئی مثیل ہے۹۵وہ بادشاہِ جن و بشر بے مثال ہے۹۶نبیؐ کے شہر میں میرا قیام، صلِّ علیٰ۹۷ارض و سما ہیں نغمہ سرا آپؐ کے لیے۹۸یُونہی کب یہ سُرور رہتا ہے۹۹نبیؐ کے نام سے سرمایۂ قرار ملا۱۰۰بسا جِس کے دل میں حرمِ آپؐ کا۱۰۱مسرور دل ہے، شاد ہے جاں اُن کے شہر میں۱۰۲حرم کی راہ، روشنِ کہکشاں ہے۱۰۳جو، میرے آقاؐ! تری بارگاہ تک پہنچے۱۰۴جہاں میں آئے وہ آبادیٔ جہاں کے لیے۱۰۵آپؐ نُورِ ہدایت کا مینار ہیں۱۰۶دستِ رحمت کے سہارے پہ اُبھرتے دیکھا۱۰۷اُن سے جو فیض یاب ہوتے ہیں۱۰۸قلب میرا ہی کہاں آپؐ کا شیدائی ہے۱۰۹حق سے کرے جو خلق کو واصل وہ آپؐ ہیں۱۱۰شاہؐ کی اُن سے قربتیں ہیں بہت۱۱۱موج ساحل بن گئی اور دردِ درماں ہو گیا۱۱۲نُور اللہ کا جلوتِ اُن کی۱۱۳حُسن و جمال رُوئے جہاں آپؐ ہی تو ہیں۱۱۴سلطان ہوئے، امیر ہوئے، مقتدا ہوئے۱۱۵پیکر جب آلمیل سامنے یزداں کے نُور کا۱۱۶شاہؐ کے آستاں کی بات کریں۱۱۷پیشِ نظر جہاں کا ہو سلطان رات دن۱۱۸غلامیٔ شاہؐ دوراں خدا نصیب کرے۱۱۹حضورِ شاہؐ قصیدۂ جمال کا گاؤں۱۲۰حُسن کے نُور کا ڈیرا ہوتا۱۲۱بارگاہِ جمال کی باتیں۱۲۲لفظ سے جلوۂ معنیٰ ہے عیاں۱۲۳جب طبیعت مری گھبراتی ہے۱۲۴پیشِ نظر ہمیشہ شبیہِ خوب رُو رہے۱۲۵یہ تسکینِ جاں، دل کی راحت ہے جو بھی۱۲۶فی الحقیقت ہے وہی بے خود و سر شار بہت۱۲۷اے حبیبِؐ خدا سلام علیک