← موضوعات
رباعی
205 کلام
۱اللہ کی توفیق سے کرتا ہوں شروع۲مُجھ ذاتِ خدا کوئی نہیں ہے معبود۳زائد ہے خدا اِک سے تو ہے شرک جلی۴ہم ذاتِ خداوند کو دل سے جا نیں۵بے مثل تری صنع گری ہے یارب!۶اے مالک آفاق! تُو کرتا ہے عطا۷اللہ جہاں بھر کا ہے خالق، برحق۸حق، ذات و صفات اور یہ اسما ہیں قدیم۹ابداع مرے رب کی خصوصیت ہے۱۰ہر لحظہ ترے لطف کے مَن گاتے ہیں۱۱جن پر ہے مُحلّا⚠️ عقدہ اسم اعظم۱۲جب کوئی بھی تکلیف سے گھبراتا ہے۱۳تُو بخش مرے سارے معاصی رہا!۱۴اللہ، خطاکار کا بخشندہ ہے۱۵جو ظاہر و باطن میں ہے صنعت کاری۱۶اللہ سے دل لطف و عنایت مانگے۱۷رحمت سے خدا تیرگیاں دور کرے۱۸یارب! نہ کبھی اُن کو رو حق سے ہٹا۱۹"مخفی میں خزانہ تھا، نہاں شان مری۲۰تُو خالق و رازق ہے جہاں کا مولے۲۱خلاقی جہاں لطف اگر فرمائے۲۲یارب! کوئی لغزش ہو کہ ہم سے ہو خطا۲۳توحید ہے اللہ کا بَرتَر مکتوم۲۴اللہ کے ہم نام سے آغاز کریں۲۵جو بندہ شا⚠️ حق کی بیاں کرتا ہے۲۶موجود ہے ہر چیز میں وہ زیر و زبر۲۷یہ دفتر ایمان کی ہے اِک خاص خبر۲۸سُنتا دل غمگین کی ہے فریاد خدا۲۹ہیں ذات کے اظہار کے درجے کتنے۳۰زنہار اُسے نیند نہ اوگھ⚠️ آتی ہے۳۱آفاق کا ہر ذرہ ہے محکوم خدا۳۲اللہ سے کچھ چیز نہیں ہے پنہاں۳۳تقدیر بناتا ہے وہ جیسا چاہے۳۴صورت سے سیہ رنگ ہیں غم کے مارے۳۵"میں ماتا ہوں دل سے خطائے نفسی۳۶مسجود فقط ایک ہے ربّ اعلیٰ۳۷اِک تخم سے وہ پیڑ اُگا دیتا ہے۳۸نیچا کبھی خود اُونچا نہیں ہو سکتا۳۹یارب! نہ کبھی ہم پہ پڑے بار گراں۴۰ظاہر ہے ہر اِک چیز سے صنعت تیری۴۱یہ قول ہے سلطانِ جہاں کا "واللہ۴۲آفاق سے ظاہر ہے خدا کی قدرت۴۳از بہر نبیؐ بخش خدایا! تقصیر۴۴شہکار خدا بن کے نبیؐ آیا ہے۴۵سرکار کا جب ذکر فضیلت آئے۴۶محبوبِ خدا، صاحبِ ادراک اعلیٰ۴۷نادان جو اپنے پہ جفا کرتے ہیں۴۸جیسے وہ نبیؐ ہے نہیں ایسا کوئی۴۹ہم انجمن نور سجا رکھتے ہیں۵۰نازل جو ہُوا شاہِ رسلؑ پر قرآں۵۱وہ سرِّ خدا، سیّد و سلطانِ ہدیٰ۵۲شیطان کو نہیں خواب میں حاصل قدرت۵۳چاہو جو کرو رب سے محبت لوگو!۵۴قرآن کی پڑھ پڑھ کے سُنائے آیت۵۵اللہ سے مومن کی وہ قربت دیکھیں۵۶وہ کھول ہر اِک راز اِدق⚠️ دیتے ہیں۵۷نُمادِ⚠️ ریاضت سے ہیں روشن تارے۵۸کیفیت عرفاں سے جو سرشار نہیں۵۹لاریب وہ امداد سدا کرتے ہیں۶۰نادار پہ کرتے ہیں عنایت ہر دم۶۱دل کی ہے خُوشی نور ہدایت میں فقط۶۲"ہے قصد اگر میری زیارت کرنا۶۳ملکڑا تھا خانہ خذف⚠️ کا، دُور شہوار⚠️ ہُوا۶۴"اے عائشہ! "سوتی ہیں جو آنکھیں میری۶۵آفاق میں ہیں اجمل و اکمل اعلیٰ۶۶دی حاکم مطلق نے حکومت اُن کو۶۷تجھ کو ہے حقیقت کی تلاش پیہم۶۸بلجا⚠️ ہیں وہ مادّی ہیں حقیقت سمجھیں۶۹سوچا ہے کبھی کون دل آرا ہوگا۷۰یزداں کی عطا، علم شِعر عالم کا۷۱ہو جائے دلِ خاص عطا اے آقاؐ۷۲حق سے ہیں نبیؐ قوّت و ہمت پاتے۷۳سرکارؐ کی سنّت کا سلیقہ پایا۷۴آدم کی ہیں اولاد کے سردار حضورؐ۷۵امت کا ہے نقصان شنیّد⚠️ دیں پہ گراں۷۶ہے کام پیمبرؐ کا ہدایت کرنا۷۷اللہ نے جو علم نبیؐ کو بخشا۷۸دُنیا سے سفر کر گئے سیّدِ سرور۷۹ہیں زندہ لحد میں شئءِ عالی القاب۸۰گو آپؐ کی صورت ہے بشر کی صورت۸۱ہر حرفِ نبیؐ معنیٰ قرآں جانیں۸۲سردار رسولوں کے جہاں کے مولے۸۳اصحابؓ طلب کرتے نبیؐ سے امداد۸۴دیکھے ہے نبیؐ سامنے اپنے ہر شے۸۵ہیں موت و حیات ایکؐ صداقت جانیں۸۶تعظیم کریں آپؐ کی اور حد میں رہیں۸۷خلّاق دو عالم کے وہ مقبل لاریب۸۸اے مومنو! اے زاہدو، آئینہ گرو۸۹تعظیم نبیؐ پاک سے دل کو بھریے۹۰تُم پیش پیغمبرؐ سر تسلیم کریں۹۱کچھ لوگ ہیں ایسے بھی جہاں میں بے دید۹۲ہم وصفِ محمدؐ جو بیاں کرتے ہیں۹۳جب کرتے تھے قیلولہ جنابِ سرور۹۴گر اُونچے قدموں والے بھی بیٹھے ہوتے۹۵یا فاعل خیرات امیر حمزہؓ!۹۶اللہ عجب نکتۂ عالی ہے خوشا۹۷مجھ اُن کے نہیں کوئی بھی موُنس مرا۹۸ہے وصفِ شفاعت کا خدا کا اپنا۹۹سیدھا یہ ملا رستہ ہدیٰ کا اُن سے۱۰۰یہ قولِ نبیؐ سُنتے گا بالاستیعاب۱۰۱خصلت یہ تبسم کی بہت عمدہ ہے۱۰۲کس درجہ حسیں صورتِ انسانی ہے۱۰۳اسباب سے امداد طلب کرتے ہیں۱۰۴ہے بندۂ حق منظرِ رحمت حقّا۱۰۵لوگوں پہ عمرؓ نے یہ وضاحت کی تھی۱۰۶عباسؓ کے ہاتھ اُٹھے ہی تھے بہر دُعا۱۰۷فرماتے ہیں آقائے نجم میرؔ عرب۱۰۸خالق سے وسیلے کی حقیقت مانگیں۱۰۹ہم دل کی نظر اپنے خدا پر رکھیں۱۱۰امّا کے ہم اس قول کو دہراتے ہیں۱۱۱خواہش تھی فاروقؓ یہ ہنگامِ وصال۱۱۲قاصر ہے سمجھنے سے خود ایسی بات۱۱۳یوں عرض صحابہؓ نے کیا: اے مولے!۱۱۴اِن واسطوں میں جو بھی نہاں قدرت ہے۱۱۵ہیں واسطے مخلوق، حقیقت جانو۱۱۶وہ موت کو لاریب صدا دیتے ہیں۱۱۷اللہ حقیقت میں حقیقی فعّال۱۱۸محبوبِ خدا کا ہے یہ عالی ارشاد۱۱۹ہے قولِ نبیؐ ایسے جھنجل ہیں افراد۱۲۰ہر علم ہے معروفِ نبیؐ کی خاطر۱۲۱الطاف کے اسباب جلیلہ ہیں ضرور۱۲۲آقاؐ سے صحابہؓ تھے محبت کرتے۱۲۳سرکارؐ نے جس مشکِ سے تھا آب پیا۱۲۴آثار و مشاہد ہیں نشانِ شوکت۱۲۵منبر کہ جو تھا جائے نشستِ آقاؐ کی۱۲۶اذہان پہ کیوں اَبرِ ضلالت چھایا۱۲۷لیں صبر سے ہم کام، نہ گھبرائیں ہم۱۲۸فرمانِ خدا کی ہے خصوصیّت خاص۱۲۹ہر چیز سے جب نور خدا کا ہے عیاں۱۳۰حل کرنے کا اشکال، طریقہ ڈھونڈیں۱۳۱برزخ میں توسّل ہے نبیؐ کا اعلیٰ۱۳۲مخلوق کو حاصل ہے جو ہمّت، قوّت۱۳۳ہم ذاتِ خداوند کو دل سے جانیں۱۳۴فرمودۂ فاروقؓ ہے "رمزُ الاسرار"۱۳۵آدم نے ندامت سے بہت غم کھایا۱۳۶فرماتے ہیں بابو جی علیہ الرحمت۱۳۷گر تجھ کو ملے شیخ کی صحبتِ واللہ۱۳۸تعلیم یہ دیتے تھے جہاں کے طِلجا⚠️۱۳۹ہے مثل ہیں آفاق میں سلطانِ ہدیٰ۱۴۰اللہ کی ہے ہم پہ خصوصی رحمت۱۴۱منشائے نبیؐ جس سے شریعت کا وجود۱۴۲کم خواندہ یہ لوگوں کی جہالت سمجھیں۱۴۳بدعت کی بصد غور حقیقت سمجھیں۱۴۴جو شخص کرے ٹھیک طریقہ جاری۱۴۵(حق بات کی تقبیل کو دل میں ٹھانو)۱۴۶ہے دینِ مکمّل، شہیدؐ دیں کی طاعت۱۴۷ایجاد کوئی دین میں یکسر ممنوع۱۴۸کیا ہوگی نماز ایسی، مقابل ہو طعام۱۴۹"ہوتی نہیں مسجد کے پڑوسی کی صلوٰۃ۱۵۰خود ساں جو نہیں بھائی سے کرتا الفت۱۵۱ابہام کوئی دین حقیقت میں نہیں۱۵۲بدعت کی طرح کی ہیں کئی اور قیود۱۵۳"مومن وہ نہیں حق کی قِسم، حکم نبیؐ۱۵۴احکام شریعت کی ہے لازم تکمیل۱۵۵منکر ہو بدعت کا نہ مشرک ہو کُھلا۱۵۶بدعت کی بصد خوم حقیقت سمجھیں۱۵۷بدعت ہے ضلالت، نہیں شک اس میں ذرا۱۵۸جو آنکھ جمالت میں سدا سوتی ہے۱۵۹لاہوت میں اک روح محمدؐ سے خوشا۱۶۰روتی ہیں مصیبت میں یہ آنکھیں پہروں۱۶۱یہ قوم و نسب، رنگ و نسل کے القاب۱۶۲دو تکمیل اوامر سے رہے دل آباد۱۶۳تُو شمع ہدیٰ ، جلوہ شب اے میراں!۱۶۴اللہ نے جو بھیجی ہیں محکم آیات۱۶۵اسلاف تو تھے ان کے معزز اکثر۱۶۶سنے گا بصد غور یہ حکمت کی بات۱۶۷مثلیت کا باطل ہے عقیدہ، توبہ۱۶۸جب اُحد کے میدان میں ہوئی جنگ کڑی۱۶۹دل مہر علی شاہؒ پہ سو جاں سے نثار۱۷۰زرد آب میں نچّے کا یہ نہلانا کیا۱۷۱غم کھائے کوئی جتنی ہے ہمت اس کی۱۷۲برزخ میں شہیدوں پہ ہے لطف داور۱۷۳ماں باپ ہیں گر مشرک و عصیاں آلود۱۷۴اعمال سے ہوتے ہیں مقاصد منظوم۱۷۵اک دوسرے کا جامہ جو مرد و زن ہیں۱۷۶نبیوں کا بشر ہونا خدا کا اعجاز۱۷۷جو کرتا غلط قسموں سے ہے اتصال۱۷۸ہم اپنے گناہوں پہ ہیں نادم سو بار۱۷۹خالق نے بنایا ہے جہاں رحمت سے۱۸۰کیا تھے ہیں جہاد اس کے لوازم سمجھیں۱۸۱دل کی نہ کُھلے آنکھ، عیب ہے دھندا۱۸۲کہتے تھے قریش اس میں ہماری ذلّت۱۸۳ہے کام منافق کا لجاجت کرنا۱۸۴جب کوئی ستم کیش دلوں کو ڈھائے۱۸۵گر کہیت کی منئ کی ہو بد کیفیت۱۸۶ایمان ہُوا دین کی محکم بنیاد۱۸۷صدقات جو تقسیم کرے مثل سحاب۱۸۸یوں ٹودہ ہیں اعمال منافق یکسر۱۸۹زر دینے سے دل پہلے تو گھبراتا ہے۱۹۰جب وقت شمر آیا تو نکلی اک آہ۱۹۱گر ذہن حسیں ہے تو ہر اک سوچ حسیں۱۹۲اُس شخص کے اعمال غلاظت یکسر۱۹۳برزخ میں نبیؐ پاک کو جو بھیجے سلام۱۹۴دامن وہ نامرادوں سے کہاں بھرتا ہے۱۹۵احسان کوئی کرتا اگر ہے ہم پر۱۹۶کی جس نے نہ آدمؑ کی فضیلت تسلیم۱۹۷اللہ نے آدمؑ کو خلافت بخشی۱۹۸تسلیم حقیقت میں توقّف کب ہے۱۹۹اصنام کہاں بخت جگا سکتے ہیں۲۰۰سنے گا بہ اخلاص یہ فرمان نبیؐ۲۰۱اصنام کو ہر گز نہ کبھی دیں دُشنام۲۰۲مقصود تصوف ہے طہارت دل کی۲۰۳کچھ لوگ جو پانی کو ہیں گدلا کرتے۲۰۴عرفان سے سرشار، معین الحق ہے۲۰۵گلزار محبت کی کلی ہے شوکت