← موضوعات

منقبت

181 کلام

۱جمالِ حسینؓ و حسنؓ یاد آیا۲رنگِ جمال حُسنِ چمن نورِ ماہ ہو۳شاہِ کونین کا آستاں مل گیا۴صلِّ علیٰ یہ شانِ نزالی حضورؐ کی۵غموں کا ستایا دلِ زار آیا۶کاش ایسی بھی اِک سحر آئے۷لب پہ نامِ نبیؐ دل میں یادِ خدا۸مری نظر میں ہے محسنِ بہار صلِّ علیٰ۹نبیؐ کی یاد نے گلشن کھلا دیئے کیا کیا۱۰جلوۂ زارِ ذاتِ ہو، محمدؐ رسولِ اللہ۱۱بنامِ شاہِ رسلؐ ساز اُٹھا محبت کا۱۲دل ہے تاریک، مرا روشنی والے خواجہؒ!۱۳درِ شاہؐ پر بندۂ زار آیا۱۴گدائے شہرِ ہُوا شہریار، صلِّ علیٰ۱۵نُورِ جاں، جاں، جہاں، ختمِ رسولاں مددے۱۶حُسنِ عالم ہیں حق کا نشاں آپؐ ہیں۱۷شکرِ ایزدی کا اب پیام آہی گیا۱۸ثانی نبیؐ کا کوئی نہ کوئی مثیل ہے۱۹نورِ خدا ہے مصطفیٰ صلِّ علیٰ محمدؐ۲۰غیر کا جب بھی ستم یاد آیا۲۱شاہ کے نام کا جواب نہیں۲۲کیا شان ہے شانِ رسولِ خدا سبحان اللہ سبحان اللہ۲۳ایک ایک کر کے ہیں نکلے مرے ارمان بہت۲۴دل میں خیالِ سیّدِ لولاک جب رہے۲۵اُن کی یاد اچھی ہے اور اُن کا خیال اچھا ہے۲۶عالم کی جان، ذاتِ ستودہ⚠️ دو سرا⚠️ کی ہے۲۷تنہائیوں میں اُن کا کرم دستگیر ہے۲۸محیطِ سارے جہاں پر ہے خواجگی⚠️ اُن کی۲۹بلند عرش بریں سے ہے آستانِ نبیؐ۳۰رحمت سے رہے دل کا یہ پیوند ہمیشہ۳۱سمجھ آیا اُسے رازِ محبت کہرُبائی کا۳۲ساز و آہنگ ہے یا قافیہ پیمائی ہے۳۳وہ نقشِ⚠️ سرور سے سرشار ہو گیا۳۴شہرِ طیبہ پہ دل نثار کریں۳۵رُخِ رسولؐ سے حق کا سراغ لے کے چلے۳۶ردِّ غم کی یہ نہایت پُر اثر تدبیر ہے۳۷بروزِ حشر ہر سو خطرۂ⚠️ میرم⚠️ اہم ہو گا۳۸نبیؐ کا نام ہے لاریب چارہ دردِ بیش⚠️ کا۳۹دامن بھرے گا کب دلِ پُر اضطرار کا۴۰رات دن خاموش وہ حیرت سراپا ہو گیا۴۱شکرِ حق دل مصطفیٰ کی یاد سے آباد ہے۴۲شاہ کا ذکر لب پہ جاری ہے۴۳مدینے کے وہ بام و دیوار دیکھیں۴۴چاند میں سورج کا جلوہ دیکھیے۴۵موجزن جس میں سمندر ہے وہ قطرہ دیکھو۴۶نعت ہم محبوبِ عالم کی سناتے جائیں گے۴۷مشکل ہے سنگلاخ بہت راہ لے خبر۴۸جلوۂ ذات کے وہ پارکھ ہیں۴۹ہر روز بھیجتا جو نبی پر سلام ہے۵۰رُخِ نبی کی جھلک روشنی کی بات کریں۵۱جب باد چلے تند غم و جور و ستم کی۵۲اُسوۂ شاہِ رسل کی پیروی ایمان ہے۵۳اضطراب و غم اے کوئی نہ فکر و بیم ہے۵۴جس کے دل میں رحمتہ للعالمین کی یاد ہے۵۵حق اور صداقت کا پیکر کیسے سے نکل کر آتا ہے۵۶باغِ اُلفت کا جمالِ دلستاں رخصت ہوا۵۷سیّدِ کونین کا عرفاں تھا جس کو نصیب۵۸ہم پر کھلے درِ لطف کا اے ربِّ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ!۵۹آقا، مولیٰ، ملجا، ماوی اصل اللہ⚠️ علیہ وسلّم۶۰نو کا وہ برگِ فضلِ خدا سے ہرا ہوا۶۱اطہر و احسن محمّد مصطفیٰ ﷺ۶۲دل پر ہمارے سیّدِ⚠️ شاہ پہ دئیے⚠️ ﷺ چلے۶۳چمکتی شمعِ نبی ﷺ کی جو شاہراہیں ہیں۶۴صورتِ رسولِ پاک ﷺ کی وہ آفتاب ہے۶۵بیکراں خوشیوں کا اظہار تھا معراج کی رات۶۶تذکرہ کیسے ہو اُس کے طالعِ بیدار کا۶۷منّی کو کیا وہ خذف⚠️ کو گوہر کریں۶۸مژدۂ لطف و کرم، اے شہِ کونین ﷺ ملے۶۹سر جھکائے انبیا نے آپ کی تعظیم کو۷۰دل سے جو ہے غلامِ بشیر ﷺ و نذیر ﷺ کا۷۱حرم کے در و بام و مینار دیکھیں۷۲جس کو ہے بخشا گیا عرفانِ رسول اللہ ﷺ کا۷۳عبدہٗ، فخرِ بشر، نورِ مصوّر سمجھیں۷۴شکرِ خدا میں حاضرِ دربار ہو گیا۷۵فضلِ ربِّ جہاں، لطفِ قدّوس ہے۷۶چاند اور سورج فدا اس پیکرِ انوار پر۷۷مدحِ سرکار ﷺ میں جو زمزمہ خواں ہوتا ہے۷۸اک چشمِ کرم میری طرف سروِ عالم ﷺ۷۹ذاتِ نبی ﷺ سے ذاتِ کیا حق کی عیاں نہیں۸۰ہم پہ عقدہ کھل گیا معراج کا۸۱محبوبِ خدا نورِ دل و جاں ہے ہمارا۸۲عزم ہے دل میں مدینے کا برابر اپنا۸۳خدا کے دین کا وہ رہنما کہ صلِّ علیٰ۸۴جو ہوا دل سے فدائے مصطفیٰ۸۵حق نے بخشا ہے شہِ دیں کو خزانۂ غیب کا۸۶فیضِ سلطاں ہے رواں دن رات دریا کی طرح۸۷احد ہے کوہِ عجب مسلسلِ نور کی شاخ۸۸دیکھا جو مہ پہ شاہ کا حق آسماں پر۸۹شاہِ رسل کا کون ہے ہمسر زمیں پر۹۰وہ صورتِ حق نشانِ خدا احمدِ مختار۹۱جنّ ہر دم انس و قدسی اُن کے ہیں دربار پر۹۲رہبر و جو ہٹ⚠️ گئے ہیں رہ پٹھتن⚠️ سے دُور۹۳رحمتوں کے ہیں خزینے سیّد و سرور کے پاس۹۴ہے درودوں کا جواب خاص جو بادی کا خط۹۵پہلوئے دل میں نہیں زنہار دُور کی طمع۹۶ڈھل گئے ذکرِ نبی سے دل مایوس کے داغ۹۷ہے جتا⚠️ کے برگ میں رنگِ شہادت نصف نصف۹۸دل ہے وہ دل ہو جس میں رسولِ خدا کا عشق۹۹ذکرِ نبی ہے جا بجا از خاکِ تا فلک۱۰۰فقط ارض و سما ہی کیا برائے احمدِ مرسل۱۰۱ہادی رہبرِ سیّدِ سرورِ⚠️ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم۱۰۲با ادب ہوئے حرم انہیں خوش اطوار قدم۱۰۳یوں جامِ زندگی میں شہد کا رس گھول لیتے ہیں۱۰۴بسرِ⚠️ حضورؐ کا سر روئے زمیں نہیں۱۰۵آنکھیں جھپکتی⚠️ ہیں ماہِ لقا کی جناب میں۱۰۶جانبِ شہرِ نبیؐ صلّی علیٰ جاتا ہوں۱۰۷ہم قسم کھاتے ہیں جو عاشقِ سلطان نہیں۱۰۸با ادب آپؐ سے مہر و مہ و اختر بولیں۱۰۹ملا فیض مسیحائی انہیؐ سے ابنِ مریم کو۱۱۰صلّ علیٰ⚠️ کے جہاں میں گُل و نسترن کی یو۱۱۱شہرِ نبیؐ پہ باغِ معطّر⚠️ کا اشتیاق۱۱۲رہبری آپؐ کے ہی نقشِ قدم سے ہو گی۱۱۳کیے بیاں ہو شانِ فضیلت بتول کی۱۱۴بلند تر ہے فلک سے ہے جا مدینے کی۱۱۵راہِ جنابِ سیّدِ دوراں سے پھر گئے۱۱۶رسولؐ کی پاک جاں بخشی گناہگاروں کی۱۱۷مرحبا اعلیٰ⚠️ و صلّاؐ شاہِ دیں پیدا ہوئے۱۱۸کیا مہربانیاں ہیں دلِ شاہِ⚠️ صدقے۱۱۹دیکھا فلک نے ماہ کب اس آب و تاب کا۱۲۰اگر رحمت ہے مستی جاں کہاں غم ہے سہارے کا۱۲۱ہیّ دیں کی زیارت کے لئے مضطر ہے دم میرا۱۲۲بُرے آقاؐ ! ہے مدّت سے یہ دل وقفِ الم میرا۱۲۳اُن کی چشمِ مہرباں سے دل ستارا ہو گیا۱۲۴کاش ہو شاہِ رسلؐ کے یہ ہِرا سرِ زیر پا۱۲۵طاق ابرویہ شہر دیں میری محراب بنا۱۲۶یا نبیؐ! میرا عدو دل کی تواں لینے لگا۱۲۷ہے خیالِ شہِؐ دیں راہنمائی کرتا۱۲۸دل کو شاداب مدینے کی ہوا نے رکھا۱۲۹سنگِ طیبہ سے یہ لعل یعنی خوب نہیں۱۳۰ولائے مصطفیٰؐ بُس جانے ہمارے دل کے اُس میں۱۳۱ہے ہجومِ کیف و مستی شاہِؐ دیوانہ میں۱۳۲یوں کس نے کیا دہر کو تجویزِؐ⚠️ دکھا دو۱۳۳نبیؐ پر جو ہوا شیدا⚠️ اُسے کیا خوف مُحشر ہو۱۳۴سیدؐ کونین سے ہم کو محبت ہو تو ہو۱۳۵ہم کو ہے اُنس ہر شہر شئے⚠️ خوش دھن کے ساتھ۱۳۶خونی ہے بے مثال جو شاہؐ زماں میں ہے۱۳۷روضہ سیدؐ ابرار نظر آتا ہے۱۳۸کریں اللہ کو دل کو جس کا حسن نیت سے۱۳۹اس قدر روشن ہمارے بخت کا کوکب ہے۱۴۰نبیؐ کی خاک در کے ذرے انجم بنیں نکلی⚠️۱۴۱شاہؐ رسلؐ کی یاد دل میں بسا چکے۱۴۲زندگانی کا طرب خیز مرا یاد رہے۱۴۳نامِ آپؐ کا علاج دل زار ہو گیا۱۴۴کچھ شوقِ مرے دل میں نہیں گوہر و زر کا۱۴۵جب سمیٹا آپؐ جہاں میں آئے درود آشنا۱۴۶نہیں اندیشہ رہن کا نہ رہ کا نہ خرم کا۱۴۷ذکرِ حق رخِ روشن وہ بتلا گیا۱۴۸محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۱۴۹محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۱۵۰جو اُن کی خاک در کے ذرے روشن جنہیں نکلی۱۵۱کیوں نہ لپٹیں آپؐ کی دیوار سے۱۵۲در شہرِؐ دیں کا نہ چھوڑیں ہم پہ یہ شیمِر⚠️ ہے۱۵۳محبوبِ خدا، صاحبِ ادراک اعلیٰ۱۵۴دُنیا سے سفر کر گئے سیّدِ سرور۱۵۵دل مہر علی شاہؒ پہ سو جاں سے نثار۱۵۶نذرانۂ عقیدت۱۵۷جس کو سیراب کیا تُو نے ، سدا سبز رہا۱۵۸دستِ شہِ دین لطفِ کا دریا ہے ہمارا۱۵۹حدیثِ مصطفیٰؐ میں ہے مزاِ⚠️ کرحلاوت کا۱۶۰بشر کو مُخلِ عالم میں چیدہ ہونا تھا۱۶۱قرآن طبِ آیا، عرفانِ بہاں⚠️ آیا۱۶۲ہے کہاں عالم میں ایسا قد رعنا نور کا۱۶۳عالمِ ایجاد میں ہر سُو ہے چار نور کا۱۶۴دفتر حرفِ شجاعت ہے بیابانِ عرب۱۶۵مری جاں پر بھی مشکل ہے یا غوث!۱۶۶روح اور قلب کے ناظر بھی ہیں عبد القادرؒ۱۶۷بالا ہے فکر و فہم سے بام حسینؑ پاک۱۶۸درود خواں ہے شب و روز آسمائے فلک۱۶۹میں شانِ شاہِ رسل کروں مرے منہ میں ایسی زباں نہیں۱۷۰ادنے غلام شاہِ رسالت آب ہوں۱۷۱سیّدِ کونین کی ہیں جلوہ پیکر ایڑیاں۱۷۲رات دن سوگوار پھرتے ہیں۱۷۳چشمہ رحمت کی موج جاں فزا کا ساتھ ہو۱۷۴حق عطا کر دے اگر ساغرِ عرفاں ہم کو۱۷۵دل میں ہے شوق اگر، ہبرِ⚠️ نبیؐ کا دیکھو۱۷۶شاہِ حسن کا یہ دیار ہے۱۷۷اُن کے چہرے کی صباحت پر نثار۱۷۸سلسلۂ قادریہ امامیہ۱۷۹ابوالفرح طرطوسی عالی نظر ، روشن گہر۱۸۰حضرت اسحاق ختلانی⚠️ حسنی کے لیے۱۸۱بجتی ہے ''بزم ذکرِ خدا'' ذوق و شوق سے