← کتابیں

شوقِ فراواں

302 کلام

۱خداوندِ احد کی ذات عالی۲آپ ﷺ کے ذکر سے گنجینۂ رحمت پایا۳لب پر نبی کا نام تھا حرفِ فغاں نہ تھا۴یہ نورِ درخشش⚠️ جہات میں ہے حُسنِ ذات کا۵کیا حسیں اپنی مثال آپ ہے ایواں اُن کا۶محبوبِ خدا نورِ دل و جاں ہے ہمارا۷عزم ہے دل میں مدینے کا برابر اپنا۸زمانے میں ہے چرچا شاہ کی ختمِ رسالت کا۹کوئی ہم پایۂ پیغمبر نہیں حضرت محمد کا۱۰کسی نقّاش سے کھپتا⚠️ نہیں ہے نقشِ احمد کا۱۱شکرِ حق چشمانِ دل میں نوے⚠️ فجرِ انبیا۱۲بسکہ عالی مقامِ احمد کا۱۳تختِ الثریٰ سے عرش تک انوارِ مصطفیٰ۱۴خدا کے دین کا وہ رہنما کہ صلِّ علیٰ۱۵جو ہوا دل سے فدائے مصطفیٰ۱۶منّتی⚠️ ہے آپ سے یہ دیدۂ تر دیکھنا۱۷حق نے بخشا ہے شہِ دیں کو خزانۂ غیب کا۱۸بخشِ⚠️ سیاہِ لطفِ نبی سے بدل گیا۱۹بہت آفاق کا بیدار تھا معراج کی شب۲۰شرق سے تا غرب گُل عالم پہ احسانِ عرب۲۱جلوۂ شاہِ رسل سے ہے عبارت بخت۲۲دل مرا اُن کی زیارت کے لیے رویا بہت۲۳کیا ہوئی اندوہ سے یہ شکل و صورت الغیاث۲۴نہ کر ولائے نبی کے کسی امیر سے بحث۲۵تا سدرہ تھے جبریل بھی شاملِ شبِ معراج۲۶انوار ہی انوار سراسر شبِ معراج۲۷فیضِ سلطاں ہے رواں دن رات دریا کی طرح۲۸جب وہ رؤیا میں نہیں آتے تو گھبراتی ہے روح۲۹احد ہے کوہِ عجب مسلسلِ نور کی شاخ۳۰ممتاز جہاں بھر میں ہے وہ ٹکڑے⚠️ محمدؐ۳۱اللہ کی ہے شان سراپائے محمدؐ۳۲رسولِ پاکؐ شہِ ذی وقار کی آمد۳۳بندۂ اخلاص کو خارِ مغیلاں ہے لذیذ۳۴دیکھا جو مہ پہ شاہ کا حق آسماں پر۳۵فرمائیں نظر جس کی طرف احمدِ مختار۳۶شاہِ رسل کا کون ہے ہمسر زمیں پر۳۷وہ صورتِ حق نشانِ خدا احمدِ مختار۳۸اے خدا! مجھ کو بھی وہ گرد و غبار آئے نظر۳۹کھلے ہیں دل یہ مدینے کی ہے ہوا کا اثر۴۰دل کو وحدت آتا ہے محبوبِ خدا کو دیکھ کر۴۱جنّ ہر دم انس و قدسی اُن کے ہیں دربار پر۴۲رہبر و جو ہٹ⚠️ گئے ہیں رہ پٹھتن⚠️ سے دُور۴۳ہم کیش! سنا نعت مزاج آج ہے ناساز۴۴رحمتوں کے ہیں خزینے سیّد و سرور کے پاس۴۵بعد صدقِ دل ہے بس ربِّ دوسرا⚠️ کی تلاش۴۶اُن کو درود ہم کریں لیل و نہار پیش۴۷عالم میں محمدؐ ہیں تجلّیِ خدا خاص۴۸وہ ہیں تو پھر کسی کے تفضّل سے کیا غرض۴۹جو بھی خلوصِ دل سے کرے استقبالِ فیض۵۰ہے درودوں کا جواب خاص جو بادی کا خط۵۱گھاٹ میں بیٹھا ہے ہر رہزنِ⚠️ الحفیظ۵۲پہلوئے دل میں نہیں زنہار دُور کی طمع۵۳ڈھل گئے ذکرِ نبی سے دل مایوس کے داغ۵۴ہے جتا⚠️ کے برگ میں رنگِ شہادت نصف نصف۵۵رفیقیں دیکھیں سفینے کی طرف۵۶دل ہے وہ دل ہو جس میں رسولِ خدا کا عشق۵۷آپ کی یاد میں ہم اشک بہائیں کب تک۵۸ذکرِ نبی ہے جا بجا از خاکِ تا فلک۵۹راہ جس رہرو کی ہے راہِ سنّت سے الگ۶۰فقط ارض و سما ہی کیا برائے احمدِ مرسل۶۱عرش سے رُتبے میں بالا ہے بہت شانِ رسول۶۲ہادی رہبرِ سیّدِ سرورِ⚠️ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم۶۳پڑے ہیں رنج⚠️ و غم⚠️ شاہِ تاجدار میں ہم۶۴با ادب ہوئے حرم انہیں خوش اطوار قدم۶۵اتنی آپؐ کے سب آپؐ کے در پر پہنچیں۶۶یہ عرض ہے حضورِ رسالت مآبؐ میں۶۷یوں جامِ زندگی میں شہد کا رس گھول لیتے ہیں۶۸بازنِ⚠️ حق شہِ دیں ملا و شان دیتے ہیں۶۹اُن کو اللہ کی ہم شانِ اتم جانتے ہیں۷۰بسرِ⚠️ حضورؐ کا سر روئے زمیں نہیں۷۱سر پہ احساں کسی پیغام⚠️ نہیں لیتے ہیں۷۲آنکھیں جھپکتی⚠️ ہیں ماہِ لقا کی جناب میں۷۳انہیں کی سمت اُنہیں میری بار بار آنکھیں۷۴جانبِ شہرِ نبیؐ صلّی علیٰ جاتا ہوں۷۵ہم قسم کھاتے ہیں جو عاشقِ سلطان نہیں۷۶با ادب آپؐ سے مہر و مہ و اختر بولیں۷۷خور⚠️ و غلاں پھول لائیں خوشی⚠️ تمثال میں۷۸یاد اب تک نہ ہوئی عشق کی ابجد مجھ کو۷۹اللہ المدؐ نوازا ہے نبیؐ نے مجھ کو۸۰کوئی بھی میرا آواز نہیں ہے تو نہ ہو۸۱ملا فیض مسیحائی انہیؐ سے ابنِ مریم کو۸۲وسیلے سے نبیؐ کے التجا ہے ربِ احسن کو۸۳صلّ علیٰ⚠️ کے جہاں میں گُل و نسترن کی یو۸۴کیا کبھوں کیا ہے یہ آئینہ سا صورت مجھ کو۸۵کہیے تو کبھی شاہدِ⚠️ خالق سے ملانے والے۸۶رات دن مجھ پر تھکلا⚠️ اُن کے کرم کا باپ⚠️ ہو۸۷شوق رکھتا ہے سدا تماشا نمجھ⚠️ مجھ کو۸۸فردوس ہے یہ گلشنِ زیبائے مدینہ۸۹شہرِ نبیؐ پہ باغِ معطّر⚠️ کا اشتیاق۹۰بہت ہے دل مرا ناشاد یا رسولؐ اللہ!۹۱ہر فصل میں شاداب گلستانِ مدینہ۹۲رہبری آپؐ کے ہی نقشِ قدم سے ہو گی۹۳خمِ رسلؐ⚠️ ہیں علمِ لدنی پڑھتے ہوئے۹۴نخن⚠️ برحق ہے یہ یقین الیقین ہے۹۵راہبرِ خلق کو ذلفِ⚠️ عوب⚠️ نہیں ہم محبت والے۹۶کوئی ہرگز نہیں خیرُ البشرؐ سے آگے۹۷وہ رسالت کے آفتاب ہوئے۹۸اس گدا پر ہو عطا خواجہِ دیں تصویری⚠️ سی۹۹ہم سوئے حرم اذنِ پیمبرؐ سے چلیں۱۰۰رہتا ہے تصوّر میں وہ قرآن مرے آگے۱۰۱کیے بیاں ہو شانِ فضیلت بتول کی۱۰۲سلطان ہیں کہڑے یہاں حضرتؐ کے سامنے۱۰۳ذکرِ احمدؐ میں یہ سے رات گزر جائے گی۱۰۴دیکھتے آیاتِ حق طیبہ⚠️ زائر چلے۱۰۵آپؐ مخلوق کو خالق سے ملانے والے۱۰۶بلند تر ہے فلک سے ہے جا مدینے کی۱۰۷وہ کورِ چشم، مہرِ درخشاں سے پھر گئے۱۰۸راہِ جنابِ سیّدِ دوراں سے پھر گئے۱۰۹ہر کوئی آپؐ سے ہی جام کرم لیتا ہے۱۱۰رسولؐ کی پاک جاں بخشی گناہگاروں کی۱۱۱خاکِ حجاز میں ہیں انوار کیسے کیسے۱۱۲کیا شانِ ہو گی روزِ قیامت رسولؐ کی۱۱۳سوئے دیارِ گُل مدحتِ مدینہ لبی⚠️ چلے۱۱۴درود جس کا وظیفہ ہو مدام ہو جائے۱۱۵مرحبا اعلیٰ⚠️ و صلّاؐ شاہِ دیں پیدا ہوئے۱۱۶نبیؐ کی ذات بھی عالم پناہ کیا ہو گی۱۱۷کیا مہربانیاں ہیں دلِ شاہِ⚠️ صدقے۱۱۸گزارش ہے جنابِ شاہِ سے لطف و ترحّم کی۱۱۹شاہِ کونین کی گر نعت زباں پر ہوتی۱۲۰بہ ادب ہو کر جو چشم مہرباں سے گر پڑے۱۲۱دیکھا فلک نے ماہ کب اس آب و تاب کا۱۲۲اکسیرِ ذکر ہے ہمّتِ عالی تارِ کا۱۲۳عرش سے بڑھ کر ہے رہتے میں شبستاں نور کا۱۲۴نہیں ہے اک ذرا بھی شوقِ دل میں ساغرِ ہم کا۱۲۵تقاضیں ستوں آپؐ کی نُوری مندِیر کا۱۲۶شوقِ عالم میں اُجالا عالمِ ایجاد کا۱۲۷ہے دلائے مصطفیٰؐ لبِ ایمان کا۱۲۸اگر رحمت ہے مستی جاں کہاں غم ہے سہارے کا۱۲۹کب اُنہیں انباروں کے زر ویم انباروں کا۱۳۰ملول رہتا نہیں چہرہ یہ بکھو میرا۱۳۱ہیّ دیں کی زیارت کے لئے مضطر ہے دم میرا۱۳۲بُرے آقاؐ ! ہے مدّت سے یہ دل وقفِ الم میرا۱۳۳سیّدِ کون و مکاں قبلہ ایمان میرا۱۳۴لئے بیٹھا ہے جس کے اک حسیں چہرہ یہ تصویر میرا۱۳۵اُن کی خدمت پاک کے بیاں احوال کیا۱۳۶اُن کے کرم سے چشمہ حیوان بہہ گیا۱۳۷اُن کی چشمِ مہرباں سے دل ستارا ہو گیا۱۳۸آخر مرضِ سے جسمِ بشر مردِ ہو گیا۱۳۹ملتفت جب سے ادھر جانِ چاں ہو گیا۱۴۰حضرتِ حسینؑ کے جو مریدوں میں مل گیا۱۴۱حق کا رسولؐ آخری شاہِ رسل ہوا۱۴۲روشن کریں حضورؐ ستارہ یہ تارا ہوا۱۴۳شکرِ ہے دل نظرِ بدفیشاں نظر اچھا ہوا۱۴۴نور احمدؐ سے جہاں آب و دل گُل پیدا ہوا۱۴۵جذبہ عشقِ نبیؐ کو بھی مجھے حاصل ہوتا۱۴۶شاہِ دیں کے نور کا گر نہ کوئی وجود ہوتا۱۴۷کہاں جاتے ہم اگر رحمت نہ رحمت ہوتا۱۴۸کاش ہو شاہِ رسلؐ کے یہ ہِرا سرِ زیر پا۱۴۹اُن کا جہاں میں کون ہے ہمدوش نقش پا۱۵۰اُس گُل زمیں کے شوق میں ہر تخمِ باغ پا۱۵۱نبیؐ کے چاہنے والوں کے ہیں نبیؐ خدا۱۵۲اے خدا گر نہ ہو دل پہ یہ پریشاں ذکر خدا۱۵۳ذاتِ حق خیر البشرؐ دونوں بہم دونوں خدا۱۵۴دل کے لئے آساں نہ تھی یہ آسان نکل آیا۱۵۵در محبوبؐ خلاق جہاں پر کوئی آیا۱۵۶بعد از ہیّ دیں نام نبیؐ کا نہیں آتا۱۵۷سبز گنبد دیکھتے رہنے کا ارمان ہے اچھا۱۵۸رنگ، سیل غم جاں کا بدل جائے تو اچھا۱۵۹طاق ابرویہ شہر دیں میری محراب بنا۱۶۰دیراں یہ باغ دل و دیں میرے دیکھا چکا تھا۱۶۱سبز گنبد دیکھتے رہنے کا ارمان ہی رہا۱۶۲ہم نے گرداب سے کشتی کو نکلتے دیکھا۱۶۳حق نے چنتے بھی کئے یہ حق ختم رسلؐ ہوا پیدا۱۶۴شیدائے نبیؐ رنگ میں اُف نہیں کبھی کرتا۱۶۵بھاری ہے بہت بار الم اُٹھ نہیں سکتا۱۶۶بہت دیکھا کوئی اُنؐ سا نہ پایا۱۶۷یشتؐ⚠️ میں عیسہ⚠️ جو بدبخت نے دل میں مارا۱۶۸نبیؐ کی آل کا دشمن نہ گر مارا تو کیا مارا۱۶۹میں کسی روز مدینے کو نکل جاؤں گا۱۷۰دامنِ دل کو خدا ایسی صفائی دیتا۱۷۱ستارہ بخت میں آیا بلالؐ کے کیا۱۷۲جو دیدِ مصطفیٰؐ کے دل میں لے کر آرزو نکلا۱۷۳پھرتا ہوں میں مدینے کی منزل میں لوٹا۱۷۴یا نبیؐ! میرا عدو دل کی تواں لینے لگا۱۷۵ہے خیالِ شہِؐ دیں راہنمائی کرتا۱۷۶دل کو شاداب مدینے کی ہوا نے رکھا۱۷۷کوئی آفاق میں احمدؐ سا پیغمبر نہ ہوا۱۷۸ولائے سیّدِ عالمؐ سے عہدِ قلب و جاں باندھا۱۷۹بے عشق زندگی بھی شبِ غم سے کم نہیں۱۸۰شکرِ خدا جہاں کا ہمیں کوئی غم نہیں۱۸۱سنگِ طیبہ سے یہ لعل یعنی خوب نہیں۱۸۲کب کوئی مجھ پہ عنایت کی گُزری خوب نہیں۱۸۳گلشن ایجاد میں کب جلوہ و جلوت نہیں۱۸۴شکرِ خدا کہ بندہ سلطانِؐ دیں ہوں میں۱۸۵ولائے مصطفیٰؐ بُس جانے ہمارے دل کے اُس میں۱۸۶ہے ہجومِ کیف و مستی شاہِؐ دیوانہ میں۱۸۷مدینے جائیں گے اکیلیاں⚠️ جب نگاہبانی میں۱۸۸یہ جہاں کیا ہے فقط نورِ خدا ہے اس میں۱۸۹شبانہ روز شِعرِؐ دیں کا نام لیتے ہیں۱۹۰ہے میتھدا⚠️ بھی وہیں جب خبرِ خیر کو دیکھتے ہیں۱۹۱کہاں وہ لعل و گوہر سیم و زر کو دیکھتے ہیں۱۹۲عرقِ⚠️ تطامرؐ⚠️ ہر طرفہ شاہِؐ دیں کو کہتے ہیں۱۹۳مشقِ برزخ کی اطاعت میں ہیں سرگرم کرتے ہیں۱۹۴حق کی روشن کتاب کی باتیں۱۹۵یوں کس نے کیا دہر کو تجویزِؐ⚠️ دکھا دو۱۹۶مقیّدات سے حق کو غنیٰ حقیقت میں سمجھو۱۹۷ترے ہے جہاں آپؐ کی اک چشمِ کرم کو۱۹۸لب ہے درکار یہ سیم و زر دنیا ہم کو۱۹۹ذکرِ مولٰے کی ہو توفیق خدایا! ہم کو۲۰۰کوچہ شاہِؐ رُسلؐ ہم گویا ملد⚠️ جانتے ہو۲۰۱آپؐ کے نام نے وہ لطف ہے بخشا ہم کو۲۰۲زیئے⚠️ اللہ جس عالی آفاق سے آشکارا ہو۲۰۳آفاق سے تا آفاق محبوبِ حق کا خوب چرچا ہو۲۰۴ہِؐ انبیا و حبیب حق پہ شبانہ روز صلوات ہو۲۰۵بیاوِ سیّدِ سرور جو خوں بجھاتے ہو۲۰۶شاہِ سب نبیوں کا گُل اسم کا جو گُل ہو۲۰۷نبیؐ پر جو ہوا شیدا⚠️ اُسے کیا خوف مُحشر ہو۲۰۸ہِؐ انبیا و حبیب حق پہ شبانہ روز صلوات ہو۲۰۹دلِ مرا روشن خدایا! اُس رُخِ زیبا سے ہو۲۱۰بیاوِ سیّد و سرور جو خوں بجھاتے ہو۲۱۱ظلمتِ شب میں بھی تم دور سحر دیکھتے ہو۲۱۲سیدؐ کونین سے ہم کو محبت ہو تو ہو۲۱۳ہوں لاکہ⚠️ راہ عشق میں غم اور زیادہ۲۱۴ہم کو ہے اُنس ہر شہر شئے⚠️ خوش دھن کے ساتھ۲۱۵عشق کی راہ نہیں فلکر⚠️ فلاطوں چلتی۲۱۶شکتِ⚠️ سختی کرم سے کنارے آن گئی۲۱۷جاں ہے نبیؐ کے در سے برابر گلی⚠️ ہوئی۲۱۸صدق و صفا سے کس نے نعیب⚠️ نبیؐ نے سنائی۲۱۹در پر اپنے وہ شہرِ حسن بلائے تو سی۲۲۰نسبت مجھے ملی ہے بہ دعا نبیؐ کی۲۲۱ہم کو یاد مصطفیؐ طیب طرا اُڑا کر لے گئی۲۲۲معنی پرست ہی تو حقیقت پرست ہے۲۲۳اُنؐ کے در سے جو لگا ہے وہ بلند اقبال ہے۲۲۴مفلس و نادار ہے آشفتہ جس کا حال ہے۲۲۵شکر یزداں! مصطفیؐ کی یاد جب بھی آئے ہے۲۲۶قربان بدرگاہت کیا دیر لگائی ہے۲۲۷جہاں ہے اصل علیؓ کی روشنی کی پُرشنی ہے۲۲۸جس دل میں ہو یاد مصطفیؐ کی بود و باش ہے۲۲۹دل ہے وہ حقیقتاً جو پر گداز ہے۲۳۰یہ دوش یہ سر خدمت سلطاؐں کے لئے۲۳۱نبیؐ بین ایمان نبیؐ حق بین۲۳۲زباں پر جس کے خدا⚠️ محبوبؐ کا نام چاتا ہے۲۳۳خونی ہے بے مثال جو شاہؐ زماں میں ہے۲۳۴اُنؐ کا یہ کرم ہے کہ مرے دل میں سکوں ہے۲۳۵جس طرح پھولوں سے خوشبو کا پتا لگتا ہے۲۳۶دل میں نبیؐ کے شہر کا عزم سفر تو ہے۲۳۷سبز گنبد کا وہ منار نظر آتا ہے۲۳۸روضہ سیدؐ ابرار نظر آتا ہے۲۳۹اُن کا جو حاشیہ بردار نظر آتا ہے۲۴۰دل کی نسبت جب سے سرکارؐ سے ہے۲۴۱بخت کا چکے گا انجم کے در کی خاک سے۲۴۲خوش رہتے ہیں ہم شام و سحر اُسی سے۲۴۳آتا ہے نظر دیکھیں جو ہم دل کی نظر سے۲۴۴ہوتی ہیں منزلیں کئی طے ایک گام سے۲۴۵جیسے وابستہ گل و خار کسی گلش⚠️ سے۲۴۶فرزوں⚠️ ہوتی نعت قرب حق کی شکرباری سے۲۴۷فرزوں⚠️ ہوتی نعت قرب حق کی شکرگزاری سے۲۴۸نبیؐ کا قرب تم رکھیں دل قلب صاف سے۲۴۹نبیؐ کا قرب تم رکھیں دل قلب صاف سے۲۵۰کرم سے ہم تم ہوئے مرہم⚠️ ابھی۲۵۱کریں اللہ کو دل کو جس کا حسن نیت سے۲۵۲ملا سب انبیاؐ کو فیض احمدؐ سے۲۵۳اس قدر روشن ہمارے بخت کا کوکب ہے۲۵۴اس سمت باد لطف شہرِ⚠️ دوسرا چلے۲۵۵یاد آتے ہیں مدینے میں اقامت کے مرے۲۵۶کیا ہیں خوش بخت نبیؐ کے جو ہوئے متوالے۲۵۷نبیؐ کی خاک در کے ذرے انجم بنیں نکلی⚠️۲۵۸جہاں سارا ہے پیغمبرؐ جہاں کے لیے۲۵۹شاہؐ رسلؐ کی یاد دل میں بسا چکے۲۶۰اک قبضہ سے یہ حالات سنور پھر سکر⚠️ جائیں گے۲۶۱کوئی بدبخت ہی آقاؐ سے محبت نہ کرے۲۶۲یہ کاروانِ شہرِ نبیؐ کا ابھی چلے۲۶۳خواجہ اہلِ جہاں نور خدا یاد رہے۲۶۴زندگانی کا طرب خیز مرا یاد رہے۲۶۵حق نے ہم پر یہ لطف فرمایا۲۶۶حدیثِ طرب دل سُناتا رہے گا۲۶۷دل کو جو صحنِ حرم کی نعت رقم کی ہے گا⚠️۲۶۸رحمت حق نے کیا اُٹھا نہ کیا۲۶۹کیف جو آج پہلے کبھی مذکور نہ تھا۲۷۰دل میں جو پھول عشقِ رسولؐ کا بھی ہو گا۲۷۱ایسا دل میں کرب گُھل نہ سکا رو نہ سکا۲۷۲فیضانِ یہ حضورؐ کی بارگاہ کا۲۷۳جس دل میں یاد سیّدِؐ عالم نے گھر کیا۲۷۴نامِ آپؐ کا علاج دل زار ہو گیا۲۷۵کچھ شوقِ مرے دل میں نہیں گوہر و زر کا۲۷۶جب سمیٹا آپؐ جہاں میں آئے درود آشنا۲۷۷نہیں اندیشہ رہن کا نہ رہ کا نہ خرم کا۲۷۸ذکرِ حق رخِ روشن وہ بتلا گیا۲۷۹حق کے نبیؐ کو چھوڑ کر جو زر میں کھو گیا۲۸۰خدا کے پیغمبرؐ کو تجنہا⚠️ نہ دیکھا۲۸۱اس طرف شکرِ خدا لطف کے بادل کے آئے۲۸۲حقِ کا رسولؐ منزل کا نشاں رہے۲۸۳جو پہلوا⚠️ شیر اُس کے مجھ سے مجھ بجھری⚠️ ہے۲۸۴انہیں ہم کیوں نبیؐ کے آستاں کے سے۲۸۵خدا کے دین کا روشن دہر آفتاب رہے۲۸۶خدا کے دین کا رخشندہ⚠️ آفتاب رہے۲۸۷اللہ جلوہِ عجب جہاں بغل میں ہے۲۸۸محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۲۸۹محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۲۹۰پہلو میں یاد سرور کئے روشن ہوئے ہیں۲۹۱جو اُن کی خاک در کے ذرے روشن جنہیں نکلی۲۹۲آج بھی آتے ہیں وہ ہم پر ہدایت کرنے۲۹۳مدینے جائیں دل و جاں کو قرار آئے۲۹۴آپؐ کے شہر میں مل جائے زمیں تھوڑی سی۲۹۵کیوں نہ لپٹیں آپؐ کی دیوار سے۲۹۶دنیا میں روشنی ہے جو خورشید و ماہ کی۲۹۷در شہرِؐ دیں کا نہ چھوڑیں ہم پہ یہ شیمِر⚠️ ہے۲۹۸منتظر ہیں اُن کے متوالے پڑے۲۹۹راہِ حق پر رواں رہنے کو کیا پتھر کو سمجھاتے۳۰۰عاشقِ رخِ رسولؐ کا مطلق دلِبر ہے۳۰۱بلند اُن کے در اقدس سے کب آستاں کوئی۳۰۲گو کہ ہے منزل پرانی، راہرو ہر دم نئے